کھیل، بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔ یہ دونوں ممالک کی عوام کو قریب لاتے ہیں اور باہمی تعاون کے نئے امکانات پیدا کرتے ہیں۔

کھیلوں میں تعاون سے متعلق 2023 کے مفاہمت نامے(ایم او یو) کی بنیاد پر تیار کیا گیا بھارت-آسٹریلیا کھیلوں کے شعبے میں تعاون کا یہ لائحۂ عمل دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کے اس اہم ستون کو مزید مستحکم بنانے کے لیے عملی اور مستقبل پر مبنی ترجیحات اور مواقع کا تعین کرتا ہے۔

آنے والے عشرے کو مواقع سے بھرپور دور تسلیم کرتے ہوئے-جس میں 2030 کے احمد آباد دولتِ مشترکہ کھیل، 2032 کے برسبین اولمپک اور پیرا اولمپک کھیل، اور مستقبل میں بھارت کی جانب سے اولمپک اور پیرا اولمپک کھیلوں کی میزبانی کی خواہش شامل ہے،یہ لائحۂ عمل مشترکہ ترجیحات، صلاحیتوں اور دستیاب وسائل سے ہم آہنگ تعاون کے مخصوص شعبوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

آسٹریلیا اور بھارت میں کھیلوں کے نظم و نسق اور کھیلوں کے نظام کی ترقی میں موجود اختلافات کا احترام کرتے ہوئےاور اعلیٰ سطحی و عوامی کھیلوں کے فروغ میں کھیلوں کی تنظیموں، کاروباری اداروں، ریاستی حکومتوں، یونیورسٹیوں اور مقامی کمیونٹی گروپوں کے قائدانہ کردار کو تسلیم کرتے ہوئے، ہم متعلقہ اداروں کے درمیان روابط کو فروغ دینے اور باہمی تعاون پر مبنی طریقۂ کار کی حمایت کے لیے پُرعزم ہیں، تاکہ ہر سطح پر دونوں ممالک کے لیے سودمند کھیلوں کی شراکت داری کو مضبوط بنایا جا سکے۔

اس لائحۂ عمل پر عمل درآمد حقیقت پسندانہ، عملی اور نتائج پر مبنی ہوگا، جبکہ سرگرمیوں کو دستیاب وسائل اور بڑے کھیلوں کے مقابلوں کے اوقات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترجیح دی جائے گی۔

یہ تعاون پہلے سے قائم شراکت داریوں کے ذریعے، لچکدار اور ضرورت پر مبنی انتظامات کے تحت آگے بڑھایا جائے گا، جہاں ہر سرگرمی کے لیے وسائل کی فراہمی کی ذمہ داری باہمی مشاورت سے ہر معاملے کی بنیاد پر طے کی جائے گی۔ یہ طریقۂ کار عملی، پائیدار اور دونوں ممالک کے لیے یکساں طور پر مفید نتائج کو یقینی بنائے گا۔

اسی تناظر میں، اس لائحۂ عمل کے تحت تعاون کے لیے درج ذیل شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

الف۔ صلاحیت سازی

  • ترجیحی کھیلوں میں بھارت میں اعلیٰ کارکردگی کے کھیلوں کے مراکز کے قیام اور مؤثر انتظام سے متعلق بہترین تجربات کے تبادلے میں تعاون کیا جائے گا۔
  • پیرا اسپورٹس کو تعاون کا ایک اہم شعبہ قرار دیتے ہوئے، پیرا درجہ بندی ، کوچنگ اور کارکردگی میں معاونت کے حوالے سے آسٹریلیا کی مہارت سے استفادہ کیا جائے گا اور جہاں مناسب ہو، بھارتی اور آسٹریلوی یونیورسٹی کے درمیان روابط بھی قائم کیے جائیں گے۔
  • آسٹریلیا کے کوچنگ ترقیاتی ماڈلز سے استفادہ کرتے ہوئے، دوطرفہ تبادلوں کا اہتمام کیا جائے گا، جن کے تحت بھارتی کوچز اور کوچ ایجوکیٹرز آسٹریلیا جائیں گے اور آسٹریلوی کوچز و تربیت کار بھارت آئیں گے، جبکہ مناسب مواقع پر  ‘‘ٹرین دی ٹرینر’’  طریقۂ کار اپنایا جائے گا۔
  • دونوں ممالک کے درمیان فزیکل تعلیم  کے تبادلے کا ایک پروگرام متعارف کرایا جا سکتا ہے تاکہ باہمی سیکھنے، بہترین تجربات کے تبادلے اور اسکولی کھیلوں، اسپورٹس سائنس اورفزیکل تعلیم میں عوامی شرکت جیسے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔
  • یوگا کے جسمانی اور ذہنی صحت پر مثبت اثرات اور بھارت میں قائم عالمی یوگاسن فیڈریشن کے کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے، آسٹریلیا میں یوگا کے فروغ، علمی تبادلے اور باہمی تعاون کے مواقع تلاش کیے جائیں گے۔
  • آسٹریلین اسپورٹس کمیشن کے اشتراک سے  انڈیا-آسٹریلیا ہائی پرفارمنس کوچ ڈیولپمنٹ پروگرام  کے تحت منتخب بھارتی کوچز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے گا۔
  • کھیلوں کی تنظیموں اور یونیوسٹی جیسے متعلقہ غیر سرکاری اداروں کے ذریعے ایسے مواقع تلاش کیے جائیں گے جن کے تحت حکومتِ ہند کی مالی معاونت سے طالب علموں کے لیے وظائف فراہم کر کے باصلاحیت نوجوان بھارتی کھلاڑیوں کو آسٹریلیا کے اعلیٰ کارکردگی کے پروگراموں میں شامل کیا جا سکے۔

  ب۔ کھیلوں کی سائنس اور ٹیکنالوجی میں مشترکہ تحقیق

  • بھارت اور آسٹریلیا کی یونیورسٹی کے درمیان کھلاڑیوں کی کارکردگی کے تجزیے، چوٹوں سے بچاؤ، اسپورٹس نیوٹریشن، پہننے کے قابل کارکردگی ٹیکنالوجی ، بحالی کے جدید طریقوں اور پیرا اسپورٹس کے شعبوں میں مشترکہ تحقیق و ترقی کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
  • دونوں ممالک کی یونیورسٹیوں کے درمیان کھیلوں کے نصاب مشترکہ طور پر تیار کرنے کے لیے شراکت داریوں کو فروغ دیا جائے گا۔
  • اسپورٹ انٹیگریٹی آسٹریلیا اور نیشنل اینٹی ڈوپنگ ایجنسی انڈیا عالمی انسدادِ ڈوپنگ کوششوں میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے، عالمی انسدادِ ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) کی استعداد سازی کی سرگرمیوں میں ایشیا/اوشیانا دفتر کے ذریعے تعاون کریں گے، نیز کھیلوں میں ڈوپنگ کے خلاف یونیسکو کے بین الاقوامی کنونشن کے گروپوں میں نمائندگی کے ذریعے بھی حصہ لیں گے۔

  ج۔ بڑے کھیلوں کے مقابلے

  • بڑے کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی سے متعلق بہترین تجربات کے تبادلے کے لیے آسٹریلیا کی ریاستوں، علاقوں اور قومی کھیلوں کی تنظیموں کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔
  • دونوں ممالک میں نمائشی مقابلوں اور نوجوانوں کے کھیلوں کی تقریبات کے انعقاد کے امکانات تلاش کیے جائیں گے تاکہ مشترکہ دلچسپی کے کھیلوں، مثلاً آسٹریلیا میں کبڈی اور کھو کھو، جبکہ بھارت میں آسٹریلین فٹ بال لیگ اور باسکٹ بال کو فروغ دیا جا سکے۔
  • اولمپکس، پیرا اولمپکس اور دولتِ مشترکہ کھیلوں جیسے بڑے مقابلوں کی تیاری کے دوران بھارتی اور آسٹریلوی کھیلوں کی تنظیموں کے درمیان سہولیات، مقابلوں اور معاونتی نظام کے مشترکہ استعمال کے لیے باقاعدہ اور دوطرفہ انتظامات قائم کیے جائیں گے۔
  • دسمبر 2026 میں چنئی میں بھارت میں منعقد ہونے والے پہلے  بگ بیش لیگ (بی بی ایل)  میچ کا خیرمقدم کرتے ہوئے،  کرکٹ آسٹریلیا  اور  بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ اِن انڈیا (بی سی سی آئی)  کو بھارت میں ہر سال بی بی ایل کے مقابلوں کے انعقاد کے عزم کی جانب پیش رفت کی ترغیب دی جائے گی۔

د۔ کھیلوں کی صنعت اور سرمایہ کاری کا پلیٹ فارم

  • دسمبر 2026 میں ممبئی میں آسٹریلیا کے تعاون سے منعقد ہونے والے  اسپورٹس انڈسٹری سمٹ  کی بنیاد پر کھیلوں کے سازوسامان کی تیاری، اسپورٹس میڈیا و نشریات، ایونٹ مینجمنٹ اور اسپورٹس اسٹارٹ اپس کے شعبوں میں بھارتی اور آسٹریلوی کمپنیوں کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
  • معلوماتی نشستوں کے ذریعے آسٹریلوی کھیلوں کے شعبے کے کاروباری اداروں کو بھارتی کھیلوں کی منڈی تک رسائی اور اسی طرح بھارتی اداروں کو آسٹریلوی مارکیٹ سے فائدہ اٹھانے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
  • اعلیٰ معیار اور مسابقتی قیمتوں پر تیار کردہ بھارتی کھیلوں کے سامان کی آسٹریلیا کو برآمدات میں اضافہ کیا جائے گا۔
  • اعلیٰ کارکردگی کے کھیلوں، کوچنگ، کوچز کی تربیت، طاقت و جسمانی تیاری، کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود، غذائیت اور کھیلوں کی نفسیات کے شعبوں میں آسٹریلیا کی مہارت کی برآمدات کو وسعت دی جائے گی۔

  ہ۔ کھیلوں میں خواتین کی شراکت داری

  • خواتین کی قیادت، صحت، اعلیٰ کارکردگی اور کھیلوں میں شرکت کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات شروع کیے جائیں گے، جن میں خواتین کھلاڑیوں کے لیے دوطرفہ ٹورنامنٹس بھی شامل ہوں گے۔ اس ضمن میں آسٹریلین اسپورٹس کمیشن کے نمایاں پروگراموں سے استفادہ کیا جائے گا، اس اعتراف کے ساتھ کہ کھیل ،خواتین کے معاشی خودمختاری، قیادت، صحت اور سماجی شمولیت کے لیے ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
UPI — an eventful journey

Media Coverage

UPI — an eventful journey
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs 53rd PRAGATI Meeting
August 25, 2026
PM reviews six key infrastructure projects across the Railway, Road and Power sectors
Projects reviewed span across 9 States with cumulative investment of more than ₹30,000 crore
PM says Infrastructure projects should be viewed as an integrated whole, rather than as individual sections or packages
PM calls for continuous reforms across all stages of project implementation and a proactive work culture across Ministries and States
PM says Speed must go hand-in-hand with quality
While reviewing AgriStack, PM emphasises the need to leverage the latest digital technologies including AI to derive greater value from agricultural data
On cyber fraud and ‘digital arrest’, PM stresses training, public awareness, cyber-safety education and coordinated action

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 53rd meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform for Pro-Active Governance and Timely Implementation, at Seva Teerth earlier today.

During the meeting, Prime Minister reviewed six key infrastructure projects across the Railway, Road and Power sectors, spanning nine States with a cumulative cost of more than ₹30,000 crore. The projects, significant for strengthening connectivity, supporting industrial and economic activity and improving public services, were reviewed with particular emphasis on adherence to timelines, inter-agency coordination, resolution of pending issues and expeditious completion.

Prime Minister emphasised that delays in infrastructure projects have consequences beyond cost escalation, as they also postpone the benefits intended for citizens, businesses and the economy. He said that infrastructure projects should be viewed and monitored as an integrated whole, rather than as isolated sections, stretches or packages. He noted that progress in individual packages should ultimately translate into timely completion and operationalisation of the entire project. Ministries and States were therefore asked to adopt an end-to-end approach, and address critical gaps that could delay the overall commissioning and delivery of benefits. He called for fostering a proactive work culture across Ministries and State Governments, with greater ownership at every level of project implementation.

Prime Minister stressed the need to explore common utility corridors for infrastructure services, wherever feasible, particularly while planning major transport and infrastructure projects. He called upon Ministries and States to examine such integrated approaches at the planning stage itself, keeping in view their technical and economic feasibility.

Prime Minister said that speed of execution must be accompanied by uncompromising quality. He called upon Ministries, States and implementing agencies to adopt modern technologies and strengthen quality assurance and supervision at every stage.

While reviewing AgriStack under the Digital Agriculture Mission, Prime Minister emphasised the need to leverage the latest digital technologies, including Artificial Intelligence, to derive greater value from agricultural data. He stressed that the data ecosystem should be effectively utilised across the agricultural value chain, from input planning to processing, enabling more informed interventions, better targeting and data-driven decision-making. He appreciated the efforts of the States and the Central Government in building the AgriStack ecosystem and called for further strengthening its use for delivering better outcomes for farmers.

During the review of cyber fraud cases, including incidents of digital arrest, Prime Minister said that prevention must be strengthened through a sustained focus on training, awareness and education. He stressed the need for continuous and targeted public-awareness campaigns, particularly for senior citizens, youth and other vulnerable sections, to familiarise them with common fraud techniques, warning signs and safe digital practices. He also called for regular capacity-building of personnel involved so that emerging modes of cyber fraud are identified and acted upon swiftly.