ہم، بھارت اور آسٹریلیا کے وزرائے اعظم، اپنے بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعلقات، اپنے ممالک کی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم، اور ایک آزاد، پُرامن، مستحکم اور خوشحال ہند-بحرالکاہل خطے کے مشترکہ وژن سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے، دفاع اور سلامتی کے تعاون سے متعلق اس مشترکہ اعلامیے سے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔

ہم 2020 میں قائم ہونے والی اپنی جامع اسٹریٹجک شراکت داری (سی ایس پی) کی اہمیت کا ازسرِنو اعادہ کرتے ہیں۔ اس شراکت داری کے آغاز کے بعد سے ہمارے اسٹریٹجک مفادات میں ہم آہنگی مزید مضبوط ہوئی ہے، ہمارے اقتصادی تعلقات مزید گہرے ہوئے ہیں اور ہمارے عوام کے درمیان روابط، جو ہمارے دونوں ممالک کے درمیان ایک زندہ پل کی حیثیت رکھتے ہیں، مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ ہم اس بات کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ دوطرفہ اور کثیرجہتی سطح پر، نیز کواڈ اور دیگر کثیرجہتی اداروں جیسے علاقائی فورمز کے ذریعے دیگر شراکت داروں کے ساتھ ہمارا قریبی تعاون، دونوں ممالک کے لیے سودمند ہے اور ہمارے مشترکہ خطے کے امن، سلامتی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ہم 2009 کے بھارت-آسٹریلیا مشترکہ اعلامیے برائے سلامتی تعاون کے ذریعے اپنی شراکت داری میں ہونے والی نمایاں پیش رفت کا بھی اعتراف کرتے ہیں۔ ہم مختلف دوطرفہ ادارہ جاتی نظاموں، جن میں وزرائے خارجہ کا فریم ورک ڈائیلاگ (ایف ایم ایف ڈی)، 2+2 وزرائے خارجہ و دفاعی وزارتی مذاکرات اور وزرائے دفاع کا مذاکراتی فورم شامل ہیں، کے ذریعے اس شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے میں ہونے والی مؤثر پیش رفت کو سراہتے ہیں۔

ہم موجودہ جغرافیائی و اسٹریٹجک غیر یقینی صورتحال اور علاقائی امن و استحکام کو درپیش خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم تمام فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ باہمی تعاون کے ساتھ پُرامن طریقے سے کام کریں اور اپنے تنازعات کو طاقت یا جبر کی دھمکی یا استعمال کے بغیر، بین الاقوامی قانون کے مطابق حل کریں۔

ہم ایک ایسے آزاد، پُرامن، مستحکم اور خوشحال ہند-بحرالکاہل خطے کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہیں، جس کی بنیاد بین الاقوامی قانون کی پابندی پر مبنی قواعد و ضوابط پر استوار نظام، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام، 1982 کے اقوام متحدہ کے سمندری قانون سے متعلق کنونشن (یو این سی ایل او ایس) کی پاسداری پر مبنی آزاد، مستحکم اور محفوظ سمندری ماحول، جس میں جہاز رانی اور فضائی پرواز کی آزادی شامل ہے، اور مؤثر، جامع اور شفاف اداروں پر ہو۔

ہم انڈین اوشن رم ایسوسی ایشن (آئی او آر اے)، آسیان اور آسیان کی قیادت میں قائم علاقائی ڈھانچے، نیز پیسیفک آئی لینڈز فورم (پی آئی ایف) کی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں، کیونکہ یہ اپنے اپنے خطوں کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کلیدی فورمز ہیں۔

ہم اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ بدلتے ہوئے اسٹریٹجک حالات کے پیش نظر ہماری شراکت داری کو بھی ترقی دینا ضروری ہے اور ہم اپنے دفاعی و سلامتی تعاون کو مزید جدید، مربوط اور اعلیٰ ترین سطح تک تیز رفتاری سے فروغ دینے کا عزم کرتے ہیں۔ ہم اسٹریٹجک تبادلوں کو مزید مضبوط بنائیں گے اور اپنے مشترکہ اسٹریٹجک مفادات کی عکاسی کرنے والے باقاعدہ وزارتی روابط جاری رکھیں گے۔ ہم دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کے لیے ایک طویل مدتی وژن کو تسلیم کرتے ہیں، جس کا مقصد ہماری مشترکہ صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ یہ تعاون دونوں ممالک کی سلامتی کو تقویت دے گا اور خطے میں امن و سلامتی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

ہم اپنے جامع دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، اسٹریٹجک مذاکرات کو وسعت دینے اور باہمی تعاون کو مزید تیز کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات کا عہد کرتے ہیں:

الف۔ ہند-بحرالکاہل خطے میں مشترکہ مفادات کو متاثر کرنے والی دفاعی پیش رفت پر باقاعدہ مشاورت کرنا۔

ب۔ شراکت دار ممالک کے ساتھ منعقد ہونے والی اپنے دفاعی مشترکہ مشقوں کو مزید پیچیدہ اور مؤثر بنانا۔

ج۔ دفاعی افواج کے درمیان باہمی عملی ہم آہنگی اور معلومات کے تبادلے کو تیز رفتاری سے فروغ دینا۔

د۔ ایک دوسرے کے علاقوں سے فوجی طیاروں کی تعیناتی میں توسیع کرنا۔

ہ۔ دفاعی افواج کے اہلکاروں کے درمیان تبادلوں، تعلیم و تربیت اور رابطہ افسران کی تقرری سمیت باہمی روابط کو مزید مستحکم کرنا۔

و۔ دفاعی شعبے کے لیے ہنرمند افرادی قوت کی بھرتی میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لینا۔

 

ہم تسلیم کرتے ہیں کہ سمندری خطہ ہمارے دفاعی، سلامتی اور اقتصادی مفادات کے لیے مرکزی اہمیت رکھتا ہے، اور اسی لیے ہم سمندری سلامتی کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا، مؤثر اور باقاعدہ بنائیں گے۔ ہم بھارت-آسٹریلیا سمندری سلامتی تعاون روڈ میپ کے ذریعے اس تعاون کو مزید مضبوط کریں گے۔

ہم دفاعی صنعتوں میں موجود بڑھتے ہوئے امکانات سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے باہمی انضمام، صنعتی تعاون اور سپلائی چین کے استحکام کو فروغ دیں گے۔ ہم دفاعی اختراع کے شعبے میں دونوں ممالک کے نظاموں کے درمیان تعاون کو مزید گہرا کریں گے اور جدید دفاعی سائنس اور ٹیکنالوجی میں اشتراک کے لیے مناسب انتظامات وضع کریں گے۔

ہم تنازعات کی روک تھام، امدادی اور بحالی کی سرگرمیوں اور دیرپا امن کے قیام میں خواتین کی مؤثر شرکت اور قیادت کو فروغ دینے کے لیے کام کریں گے۔ ہم امن مشنز میں صنفی مساوات کو برقرار رکھنے اور ’’خواتین، امن اور سلامتی‘‘ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔

ہم دوطرفہ سطح پر اور اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر علاقائی اقتصادی خوشحالی اور لچکدار معیشت کے فروغ کے لیے تعاون جاری رکھنے کا عہد کرتے ہیں۔ ہم اہم معدنیات اور صاف توانائی کی ٹیکنالوجیز سمیت زیادہ متنوع اور مضبوط سپلائی چینز، اہم بنیادی ڈھانچے اور باہمی رابطوں کو فروغ دیں گے۔

ہم ایک ایسے تکنیکی ماحول کی تشکیل کے لیے مل کر کام کریں گے جو محفوظ اور مضبوط ہند-بحرالکاہل کے حوالے سے ہمارے مشترکہ وژن سے ہم آہنگ ہو۔ ہم ،سائبر، اہم ٹیکنالوجیز اور سپلائی چینز سے متعلق آسٹریلیا-بھارت شراکت داری (آسٹریلیا-بھارت پیکٹس) کے تحت سائبر سلامتی، اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تعاون اور معلومات کے تبادلے کے نظام سے بھرپور استفادہ کریں گے اور اسٹریٹجک ٹیکنالوجیز کے شعبے میں تعاون کو مزید مستحکم کریں گے۔

 

ہم اپنے خطے میں دہشت گردی کے خطرات سمیت دہشت گرد تنظیموں اور افراد سے متعلق معلومات کے تبادلے میں اضافہ کرنے اور پرتشدد انتہاپسندی اور دہشت گردی کے انسداد کے لیے درج ذیل شعبوں میں مزید تعاون کے امکانات تلاش کرنے کا عہد کرتے ہیں:

 

الف۔ نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز۔

ب۔ دہشت گردی کی مالی معاونت۔

ج۔ اہم بنیادی ڈھانچے اور عوامی ہجوم والی جگہیں۔

د۔ سمندری خطہ۔

ہ۔ آن لائن انتہاپسندی۔

 

ہم 2023 میں نقل مکانی اور نقل و حرکت سے متعلق شراکت داری کے انتظام سے متعلق کئے گئے معاہدے کے تحت اپنا تعاون جاری رکھیں گے، جس میں غیر قانونی نقل مکانی، انسانی اسمگلنگ اور افراد کی غیر قانونی تجارت کی روک تھام کے لیے تعاون کے طریقۂ کار وضع کیے گئے ہیں۔ ہم سرحد پار منظم جرائم کے خلاف بھی اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔

ہم ایک ایسی پُرامن دنیا کے خواہاں ہیں جو جوہری ہتھیاروں سے پاک ہو اور اس مقصد کے لیے ہم جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ اور عالمی، مکمل، غیر امتیازی اور قابلِ تصدیق جوہری تخفیفِ اسلحہ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔

ہم ہند-بحرالکاہل کے دیگر شراکت داروں کے ساتھ سمیت  سہ فریقی تعاون کے طریقۂ کار اور ہند-بحرالکاہل سمندری اقدام کے ذریعے مزید گہرے روابط اور مسلسل تعاون کا عہد کرتے ہیں۔ ہم ریاستہائے متحدہ امریکہ اور جاپان کے ساتھ اپنے تعاون کو مزید وسعت دیں گے تاکہ ایک آزاد، مستحکم، پُرامن اور خوشحال ہند-بحرالکاہل خطے کے اپنے مثبت وژن کے حصول کے لیے صلاحیتوں اور باہمی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

ہم انسانی امداد اور آفات سے نمٹنے (ایچ اے ڈی آر) کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کا عہد کرتے ہیں تاکہ قدرتی آفات کے دوران تیز رفتار، مربوط اور پائیدار امدادی کارروائیاں یقینی بنائی جا سکیں، اور خطے میں امن، سلامتی، خوشحالی اور استحکام کے لیے اپنے مشترکہ عزم کو مزید تقویت دی جا سکے۔ اس مقصد کے لیے ہم درج ذیل اقدامات کے ذریعے تعاون کو مضبوط بنائیں گے:

 

الف۔ معلومات کے تبادلے اور ماہرین کے باہمی تبادلوں کے ذریعے۔

ب۔ انسانی امداد اور آفات سے نمٹنے کی مشترکہ مشقوں کے ذریعے، جن میں کواڈ ہند-بحرالکاہل لاجسٹکس نیٹ ورک بھی شامل ہے، جو بڑے پیمانے پر آنے والی قدرتی آفات کے دوران شہری امدادی کارروائیوں کی معاونت کرتا ہے۔

ہم آفات اور ہنگامی حالات کے دوران ہنگامی منصوبہ بندی کے تبادلے، مشترکہ ردِعمل اور باہمی ہم آہنگی کے امکانات کا جائزہ لینے کا عہد کرتے ہیں، تاکہ تیسرے ممالک میں علاقائی اور عالمی سطح پر انخلا کی کارروائیوں میں بھی معاونت فراہم کی جا سکے۔

اپنی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے جذبے کے تحت، ہم ایک پُرامن اور مستحکم ہند-بحرالکاہل خطے کے فروغ کے لیے اس جامع اوراہم ایجنڈے پر مکمل طور پر عمل درآمد کرنے کا عہد کرتے ہیں۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
From 'chalta hai' to 'badal sakta hai': Decoding PM Modi's Punctuality narrative

Media Coverage

From 'chalta hai' to 'badal sakta hai': Decoding PM Modi's Punctuality narrative
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
The world must now be looking for Indian startups: PM Modi during the interaction with Space Startup CEOs
August 23, 2026
Prime Minister highlights policy consistency, global opportunities and India’s growing strengths in the space sector
We should create an aura that makes people across the world look to India to build their future: PM
We can establish ourselves very fast as we are highly competitive in terms of cost; our talent and the risk-taking capacity of our people is also very high: PM

Prime Minister – You have shown courage in a new field. The most important thing is that you trusted the government’s word. My view has always been that whatever decisions we take, we must remain consistent in them, we must not keep changing them again and again, so that anyone who wants to take a risk can have confidence that, fine, if something goes wrong it will be because of my mistake, but no one will abandon me. And this was our effort - to create that trust.

CEO – We are India’s first Space Tech Unicorn. On July 18 we successfully launched India’s first private rocket, ejecting satellites. And this is just the beginning. Generally, we say this is just a warm‑up for Skyroot, it is only the start. By mid next year we will be doing one launch per month. And also, thanks to you sir for opening up the sector. Three factories have already been built. We already have the capacity for one rocket per month. And this is just the beginning. Our future dream is to do one launch per week and several launches per day.

CEO – We have made an engine that comes among the most modern engines in the world. Sir, we have prepared it, and its testing is ongoing.

Prime Minister – Do they have confidence, the investors?

CEO – Sir, after Skyroot’s first launch, their confidence has increased.

Prime Minister – Good. That route is helping you?

CEO – It is helping a lot.

Prime Minister – Now the world must be searching for India’s startups, wondering who is behind this. Because when there is a breakthrough, immediately people’s attention goes there.

CEO – I think, after the space industry opened up, we have seen a very good trend. Our citizens who are in the US and Europe want to come back and work with us.

Prime Minister – We have to connect many people, and as Mehta said, now people who had gone abroad are coming back. I believe we must create such an aura that people all over the world feel that if they want to build their life, they should come to Hindustan. Join some Indian startup. Join some Indian space agency. I firmly believe that the entire talent pool, like a magnet, because of you we can attract, and that can become a very great strength for us.

CEO – Our vision is that in the next 18 months we want to set up a global ground station network.

CEO – We make the engines that satellites use to move from one place to another in space, for 5 years or 15 years. Globally we have received very good traction. And sir, your effort has been very important in this too, because now Indian companies have government support for exporting.

Prime Minister – In cost we are very competitive, in talent there is no question at all, and the risk‑taking capacity of our people is anyway greater. And because of that we can very quickly make our place.

CEO – This robotic spacecraft will go to space, physically capture the dead satellite and remove it from orbit.

CEO – We are the first Indian company working on docking and refueling technologies, with the vision of establishing a fuel station in space.

CEO – My name is Antariksh, my co‑founder Monika is also here. Sir, we are India’s first space pharma startup. We are making satellites that can go to space, manufacture pharmaceuticals there, and bring them back from space.

Prime Minister – Your name is Antariksh - was your family already in this field?

CEO – No sir, my mother gave me this name.

CEO – After one launch, in the last one month we have received eight launch contracts.

Prime Minister – Good, good.

CEO – And mostly they are international.

CEO – Sir, right now we are planned to launch this innovation with 1 million farmers.

CEO – Sir, this is for you, so that a memory will remain.

Prime Minister – Wonderful.

CEO – This opening, which you did for the private sector, through that the private satellites are now showing the beauty of India.