بیٹی بچاؤ ،بیٹی پڑھاؤ: بچیوں کی نگہداشت

Published By : Admin | January 1, 2016 | 01:04 IST

ہمارا اصول ہونا چاہئے: ’بیٹا بیٹی، ایک سمان‘

آئیے ہم بچی کی پیدائش کا جشن منائیں، ہمیں اپنی بیٹیوں پر بھی یکساں فخر ہونا چاہئے۔ میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ بیٹی پیدا ہونے پر اس موقع کو بطور جشن منانے کیلئے پانچ پودے لگائیں۔

وزیراعظم نریندر مودی اپنے ذریعے گود لیے گئے گاؤں جئے پور میں شہریوں سے خطاب کے دوران۔

بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ (بی۔ بی۔ بی۔ پی) کا آغاز وزیراعظم کے ذریعے ۲۲؍ جنوری ۲۰۱۵ کو پانی پت، ہریانہ میں کیا گیا تھا۔ بی۔ بی۔ بی۔ پی گھٹتے ہوئے بچوں کے صنفی تناسب اور ایک عرصۂ حیات میں تمام متعلقہ خواتین کو خودمختار بنانے کے موضوعات کے مسئلے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ یہ ایک سہ وزارتی کوشش ہے جس میں خواتین اور بچوں کی ترقیات، صحت و خاندانی بہبود اور انسانی وسائل کی ترقیات کی وزارت شامل ہیں۔

اس اسکیم کے بنیادی مرحلوں میں پی۔ سی۔ اور پی۔ این۔ ڈی۔ ٹی۔ ایکٹ کو ملک بھر میں بیداری پھیلانے کیلئے نافذ کرنا اور ۱۰۰ اضلاع (جو سی۔ ایس۔ آر۔ کے معاملے میں پیچھے ہیں) میں مہمات اور کثیر شعبہ جاتی کارروائیوں کے ذریعے بیداری پھیلانے کے عناصر شامل ہیں۔ تربیت، لوگوں کو حساس بناکر، بیداری میں اضافہ کرکے اور پورے معاشرے کو بنیادی سطح پر اس عمل میں شامل کرکے ان کے اندازِ فکر کو بدلنے پر زور دیا گیا ہے۔

این۔ ڈی۔ اے۔ حکومت ہمارے معاشرے کے ذریعے بچیوں کے بارے میں رائج انداز فکر کو یکسر تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ وزیراعظم مودی نے اپنے من کی بات میں ہریانہ کے بی بی پور کے سر پنچ کی ستائش کی ہے جنہوں نے ‘بیٹی کے ساتھ ایک سیلفی’ کی پہل کی ہے۔ وزیراعظم نے لوگوں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنی سیلفیوں کو اپنی بیٹیوں کے ساتھ شیئر کریں اور ان کی یہ بات جلد ہی دنیا بھر میں مقبول عام ہوگئی۔ پورے بھارت اور پوری دنیا سے لوگوں نے اپنی بیٹیوں کی سیلفیاں شیئر کرنی شروع کردیں اور یہ ان لوگوں کیلئے ایک فخر کا موقع بن گیا جن کے یہاں بیٹیاں ہیں۔

بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کی شروعات کے بعد سے تقریباً تمام ریاستوں میں کثیر شعبہ جاتی ضلعی منصوبے نافذ کیے جا رہے ہیں۔ ضلعی اور زمینی سطح کے کارکنان کی صلاحیت میں اضافہ کرنے اور تربیت فراہم کرنے والوں کے لئے صلاحیت سازی پروگراموں کے ذریعہ انہیں تربیت دی جا رہی ہے۔ اپریل سے اکتوبر ۲۰۱۵ تک اس طرح کے نو (۹) تربیتی پروگرام منعقد کیے جا چکے ہیں جس میں تمام ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی خواتین اور اطفال ترقیات وزارتوں کو شامل کیا گیا۔

چند ابتدائی اقدامات

بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ اسکیم کے تحت پتھورا گڑھ ضلع نے نوزائیدہ بچیوں کو بچانے اور ان کی تعلیم کے لئے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ ضلعی ٹاسک فورس اور بلاک ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہیں۔ ان اداروں کی میٹنگیں منعقد کی گئی ہیں اور نوزائیدہ بچوں کے صنفی تناسب سے متعلق واضح خاکہ تیار کر لیا گیا ہے۔ بڑے پیمانے پر معاشرے کے لوگوں سے رابطہ کرنے کے لئے اور اس اسکیم کو وسیع پیمانے پر تشہیر دینے اور بیداری پیدا کرنے سے متعلق سرگرمیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ مختلف اسکولوں، فوجی اسکولوں اور سرکاری محکموں، کارکنان وغیرہ کی اہم شراکت داری سے مختلف النوع ریلیوں کا انعقاد کیا گیا ہے۔

بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کے بارے میں بیداری بڑھانے کے مقصد سے پتھوراگڑھ میں نکڑ ناٹک بھی منعقد کیے جا رہے ہیں۔ یہ نکڑ ناٹک صرف گاؤں میں ہی نہیں بلکہ بازاروں میں بھی منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ ناظرین کے ایک بڑے طبقے کو بیدار کیا جا سکے۔ کہانیوں کی پیش کش کے توسط سے صنف پر مبنی اسقاطِ حمل کے مسئلے کے تئیں لوگوں کو بیدار کیا جا رہا ہے۔ نوازائیدہ بچیوں سے متعلق موضوعات اور اسے اپنے عرصۂ حیات میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے انہیں ان نکڑ ناٹکوں کے ذریعہ اچھی طرح سے نمایاں کیا جاتا ہے۔ دستخطی مہم، عہد اور حلف برداری تقریبات کے توسط سے پوسٹ گریجویٹ کالجوں کے ۷۰۰ طلبا اور ان کے فوجی کارکنان تک بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کا پیغام پہنچا ہے۔

پنجاب کے مانسا ضلع نے ایک پہل کی ہے جس کے تحت وہ ضلع کے لوگوں کو اپنی لڑکیوں کو پڑھانے کے لئے ترغیب دیتے ہیں۔ ‘اُڑان۔ سپنے کی دنیا سے روبرو (اُڑان۔ ایک دن کے لئے اپنے خواب کو زندہ جاوید کریں)’ اسکیم کے تحت مانسا انتظامیہ چھٹویں سے بارہویں درجہ کی طالبات سے تجاویز طلب کرتا ہے۔ ان طالبات کو، اُس مخصوص پسندیدہ پیشے سے منسلک شخص کے تجربات حاصل کرنے یا سیکھنے کےلئےایک دن گزارنے کا موقع ملتا ہے جو وہ اپنی زندگی میں بننا چاہتی ہیں، جیسے ڈاکٹر، پولیس آفیسر، انجینئر، آئی اے ایس اور پی پی ایس افسران اور دیگر۔

اس طرح کی پہل کافی مقبول ہوئی ہے اور ۷۰ سے زائد طالبات کو اُن کے پسندیدہ پیشے میں ماہر افراد کے ساتھ ایک دن گزارنے کا موقع پہلے ہی حاصل ہو چکا ہے جس میں وہ ایک پیشہ ورانہ ماحول میں انہیں کام کرتے ہوئے دیکھتی ہیں جس سے انہیں اپنے مستقبل میں کرئیر کا انتخاب کرنے کے سلسلے میں صحیح فیصلہ لینے میں مدد ملتی ہے۔

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Vande Bharat AC chair car fares much lower than those in China, Japan, France: Railway Minister Ashwini Vaishnaw

Media Coverage

Vande Bharat AC chair car fares much lower than those in China, Japan, France: Railway Minister Ashwini Vaishnaw
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
6 Years of Jal Jeevan Mission: Transforming Lives, One Tap at a Time
August 14, 2025
Jal Jeevan Mission has become a major development parameter to provide water to every household.” - PM Narendra Modi

For generations, the sight of women carrying pots of water on their heads was an everyday scene in rural India. It was more than a chore, it was a necessity that was an integral part of their everyday life. The water was brought back, often just one or two pots which had to be stretched for drinking, cooking, cleaning, and washing. It was a routine that left little time for rest, education, or income-generating work, and the burden fell most heavily on women.

Before 2014 water scarcity, one of India’s most pressing problems, was met with little urgency or vision. Access to safe drinking water was fragmented, villages relied on distant sources, and nationwide household tap connections were seen as unrealistic.

This reality began to shift in 2019, when the Government of India launched the Jal Jeevan Mission (JJM). A centrally sponsored initiative which aims at providing a Functional Household Tap Connection (FHTC) to every rural household. At that time, only 3.2 crore rural households, a modest 16.7% of the total, had tap water. The rest still depended on community sources, often far from home.

As of July 2025, the progress under the Har Ghar Jal program has been exceptional, with 12.5 crore additional rural households connected, bringing the total to over 15.7 crore. The program has achieved 100% tap water coverage in 200 districts and over 2.6 lakh villages, with 8 states and 3 union territories now fully covered. For millions, this means not just access to water at home, but saved time, improved health, and restored dignity. Nearly 80% of tap water coverage has been achieved in 112 aspirational districts, a significant rise from less than 8%. Additionally, 59 lakh households in LWE districts have gained tap water connections, ensuring development reaches every corner. Acknowledging both the significant progress and the road ahead, the Union Budget 2025–26 announced the program’s extension until 2028 with an increased budget.

The Jal Jeevan Mission, launched nationally in 2019, traces its origins to Gujarat, where Narendra Modi, as Chief Minister, tackled water scarcity in the arid state through the Sujalam Sufalam initiative. This effort formed a blueprint for a mission that would one day aim to provide tap water to every rural household in India.

Though drinking water is a State subject, the Government of India has taken on the role of a committed partner, providing technical and financial support while empowering States to plan and implement local solutions. To keep the Mission on track, a strong monitoring system links Aadhaar for targeting, geo-tags assets, conducts third-party inspections, and uses IoT devices to track village water flow.

The Jal Jeevan Mission’s objectives are as much about people as they are about pipes. By prioritizing underserved and water-stressed areas, ensuring that schools, Anganwadi centres, and health facilities have running water, and encouraging local communities to take ownership through contributions or shramdaan, the Mission aims to make safe water everyone’s responsibility..

The impact reaches far beyond convenience. The World Health Organization estimates that achieving JJM’s targets could save over 5.5 crore hours each day, time that can now be spent on education, work, or family. 9 crore women no longer need to fetch water from outside. WHO also projects that safe water for all could prevent nearly 4 lakh deaths from diarrhoeal disease and save Rs. 8.2 lakh crores in health costs. Additionally, according to IIM Bangalore and the International Labour Organization, JJM has generated nearly 3 crore person-years of employment during its build-out, with nearly 25 lakh women are trained to use Field testing Kits.

From the quiet relief of a mother filling a glass of clean water in her kitchen, to the confidence of a school where children can drink without worry, the Jal Jeevan Mission is changing what it means to live in rural India.