On October 3, 2014, on the auspicious day of Vijay Dashami, we started the journey of 'Mann Ki Baat': PM Modi
‘Mann Ki Baat’ has become a festival of celebrating the goodness and positivity of the fellow citizens: PM Modi
The issues which came up during 'Mann Ki Baat' became mass movements: PM Modi
For me, 'Mann Ki Baat' has been about worshiping the qualities of the countrymen: PM Modi
'Mann Ki Baat' gave a platform to me to connect with the citizens of our country: PM Modi
Thank the colleagues of All India Radio who record ‘Mann Ki Baat’ with great patience. I am also thankful to the translators, who translate 'Mann Ki Baat' into different regional languages: PM Modi
Grateful to Doordarshan, MyGov, electronic media and of course, the people of India, for the success of ‘Mann Ki Baat’: PM Modi

میرے پیارے ہم وطنو ،  نمسکار !   آج 'من کی بات' کا 100 واں ایپیسوڈ ہے ۔ مجھے آپ سب کے ہزاروں خطوط موصول ہوئے ہیں، لاکھوں پیغامات   ملے ہیں اور میں نے کوشش کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ خطوط پڑھوں، انہیں دیکھوں، پیغامات کو ذرا  سمجھنے کی کوشش کروں۔ آپ کے خط پڑھتے ہوئے کئی بار میں جذباتی ہوا، جذبات سے لبریز ہوا، جذبات میں بہہ گیا اور خود کو بھی سنبھالا۔ آپ نے مجھے 'من کی بات' کی 100ویں قسط پر مبارکباد دی ہے لیکن میں  سچے دِل سے کہتا ہوں  کہ در اصل  مبارکباد  کے مستحق تو  آپ سبھی 'من کی بات' کے سننے والے ہمارے ہم وطن ہیں ۔ 'من کی بات' کروڑوں  بھارتیوں  کی 'دِل  کی بات' ہے، یہ ان کے جذبات کی عکاسی ہے۔

ساتھیو ،   3 اکتوبر ،  2014  ء کو وجے دشمی کا تہوار تھا اور ہم سب نے مل کر وجے دشمی کے دن 'من کی بات' کا سفر شروع کیا تھا ۔ وجے دشمی کا مطلب ہے برائی پر اچھائی کی جیت کا تہوار۔ 'من کی بات' بھی ہم وطنوں کی اچھائیوں اور مثبتیت کا ایک منفرد تہوار بن گیا ہے۔ ایسا ہی ایک تہوار  ، جو ہر مہینے آتا ہے، جس کا ہم سبھی کو  انتظار  ہوتا  ہے ۔ ہم اس میں مثبتیت کا جشن مناتے ہیں۔ ہم اس میں لوگوں کی شرکت کا  بھی  جشن مناتے ہیں۔ کبھی کبھی یقین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ 'من کی بات' کو اتنے مہینے اور اتنے سال گزر چکے ہیں۔ ہر  ایپیسوڈ اپنے آپ میں خاص  رہا ۔ ہر بار نئی مثالوں کی نوید، ہر بار وطن عزیز کی نئی کامیابیوں کی  توسیع  ۔ 'من کی بات' میں ملک کے کونے کونے سے ہر عمر کے لوگ شامل ہوئے۔ چاہے بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کی بات ہو ،  سووچھ بھارت   مہم ہو ، کھادی سے محبت ہو یا فطرت کی بات ہو ، آزادی کا امرت مہوتسو ہو یا امرت سروور  کی بات ہو ،  'من کی بات'  ، جس موضوع سے جڑی  ، وہ عوامی تحریک بن گئی  اور آپ  لوگوں نے  بنا دیا  ۔ جب میں نے اس وقت کے امریکی صدر براک اوباما کے ساتھ 'من کی بات' شیئر کی تو پوری دنیا میں اس کا چرچا ہوا۔

ساتھیو  ، 'من کی بات' میرے لیے دوسروں کی خوبیوں کی پوجا  کرنے کی طرح ہی رہا ہے۔ میرے ایک رہنما تھے -  جناب لکشمن راؤ جی انعامدار۔ ہم انہیں وکیل صاحب کہا کرتے  تھے۔ وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ ہمیں دوسروں کی خوبیوں کی پرستش کرنی چاہیے۔ کوئی بھی آپ کے سامنے ہو، آپ کے ساتھ ہو، آپ کا مخالف ہو، ہمیں ان کی خوبیوں کو جاننے اور ان سے سیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان کی یہ بات ہمیشہ مجھے متاثر کرتی رہی ہے۔ 'من کی بات' دوسروں کی خوبیوں سے سیکھنے کا ایک بہترین ذریعہ بن گیا ہے۔

     میرے پیارے ہم وطنو، اس پروگرام نے مجھے آپ سے کبھی دور نہیں کیا۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں گجرات کا وزیر اعلیٰ تھا تو وہاں عام لوگوں  سے ملنا جلنا فطری  طور پر ہو ہی جاتا تھا۔ وزیراعلیٰ کا کام  کاج اور آفس ایسا ہی ہوتا ہے، ملاقات کے بہت مواقع  ملتے رہتے ہیں لیکن  2014  ء میں دلّی آنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ یہاں کی زندگی بہت مختلف ہے۔ کام کی نوعیت مختلف ہے، ذمہ داریاں مختلف ہیں،  صورتِ حال  کی پابندی ،  سکیورٹی کا تام جھام ، وقت کی حد۔ ابتدائی دنوں میں کچھ مختلف محسوس ہوا، خالی  خالی سا محسوس  کرتا تھا ۔ پچاس سال پہلے میں نے اپنا گھر اس لیے نہیں چھوڑا تھا کہ ایک دن اپنے ہی ملک کے لوگوں سے رابطہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اہل وطن  ، جو میرا سب کچھ ہیں، میں ان سے جدا نہیں رہ سکتا۔ 'من کی بات' نے مجھے اس چیلنج کا حل دیا، عام آدمی سے جڑنے کا ایک طریقہ فراہم کیا ۔ دفتر اور پروٹوکول نظام تک محدود رہا اور عوامی جذبات، کروڑوں عوام کے ساتھ، میرے جذبات، دنیا کا لازم و ملزوم حصہ بن گئے۔ میں ہر ماہ ملک کے لوگوں کے ہزاروں پیغامات پڑھتا ہوں، ہر ماہ مجھے اہل وطن کا ایک شاندار روپ نظر آتا ہے۔ میں  ہم وطنوں کے تپ اور تیاگ کی انتہا   کو دیکھتا ہوں  اور محسوس کر  تا ہوں۔ مجھے تو یہ بھی نہیں لگتا کہ میں آپ  سے ذرا بھی دور ہوں۔ میرے لیے 'من کی بات' کوئی پروگرام نہیں، میرے لیے یہ ایک  عقیدت ، پوجا ، وَرَت  ہے۔  جیسے لوگ ایشور کی پوجا کرنے جاتے ہیں تو پرساد کی تھال لاتے ہیں ۔  میرے لیے 'من کی بات'  ایشور کی صورت میں عوام کے قدموں میں پرساد کی تھال کی طرح ہے  ۔ 'من کی بات' میرے دِل کا روحانی سفر بن گیا ہے۔

‘मन की बात’ स्व से समिष्टि की यात्रा है।

‘मन की बात’ अहम् से वयम् की यात्रा है।

यह तो मैं नहीं तू ही इसकी संस्कार साधना है।

آپ  تصور کریں ، میرے کچھ ہم وطن 40-40 سالوں سے ویران پہاڑیوں اور بنجر زمینوں پر درخت لگا رہے ہیں، تو بہت سے لوگ 30-30 سالوں سے پانی کے تحفظ کے لیے  باولیاں اور تالاب بنا رہے ہیں، ان کی صفائی کر رہے ہیں۔ کوئی 25-30 سال سے غریب بچوں کو پڑھا رہا ہے، کوئی غریبوں کے علاج میں مدد کر رہا ہے۔ 'من کی بات' میں کئی بار ان کا ذکر کرتے ہوئے میں جذباتی ہو گیا  ہوں۔ آل انڈیا ریڈیو کے ساتھیوں کو اسے کئی بار دوبارہ ریکارڈ کرنا پڑا۔ آج چاہے ماضی کتنا ہی آنکھوں کے سامنے آرہا ہو۔ ہم وطنوں کی ان کوششوں نے مجھے مسلسل محنت کرنے کی ترغیب دی ہے۔

ساتھیو  ، جن لوگوں کا ہم 'من کی بات' میں ذکر کرتے ہیں وہ  سب ہمارے ہیرو ہیں  ، جنہوں نے اس پروگرام کو جاندار بنایا ہے۔ آج جب ہم 100ویں قسط کے سنگ میل پر پہنچ چکے ہیں، میری یہ خواہش بھی ہے کہ ہم ایک بار پھر ان تمام ہیروز  کے پاس جاکر ، ان کے سفر کے بارے میں جانیں ۔ آج ہم کچھ ساتھیوں سے بھی بات کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہریانہ کے بھائی سنیل جگلان میرے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔ سنیل جگلان جی کا میرے ذہن پر اتنا اثر ہوا کیونکہ ہریانہ میں صنفی تناسب پر کافی بحث ہوتی تھی اور میں نے بھی ہریانہ سے ہی 'بیٹی بچاؤ-بیٹی پڑھاؤ' کی مہم شروع کی تھی  اور اس دوران، جب میں نے سنیل جی کی 'سیلفی ود ڈاٹر' مہم دیکھی تو مجھے بہت خوشی ہوئی۔ میں نے بھی ان سے سیکھا اور اانہیں 'من کی بات' میں شامل کیا۔  دیکھتے ہی دیکھتے  ، 'سیلفی ود ڈاٹر' ایک عالمی مہم میں تبدیل ہو گئی اور اس میں مسئلہ سیلفی کا نہیں تھا ، ٹیکنالوجی کا نہیں تھا ،اس میں ڈاٹر کو ، بیٹی کو اہمیت دی گئی تھی ۔ زندگی میں بیٹی کا مقام  کتنا اہم ہوتا ہے ، اس مہم  سے یہ بھی واضح ہوا  ۔ ایسی بہت سی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہریانہ میں صنفی تناسب میں بہتری آئی ہے۔ چلو آج سنیل جی کے ساتھ کچھ گپ شپ کرتے ہیں۔

محترم وزیر اعظم  -  نمسکار  سنیل  جی ،

سنیل-  نمسکار سر، آپ کی آواز سن کر میری خوشی بہت بڑھ گئی ہے۔

وزیر اعظم- سنیل جی  ' سیلفی وِد ڈاٹر ‘ ہر کسی کو یاد ہے... اب جب اس پر دوبارہ  بات ہو رہی ہے تو آپ کو کیسا لگ رہا ہے؟

سنیل –  محترم وزیر اعظم ،  اصل میں  آپ نے ،ہماری ریاست ہریانہ سے پانی پت کی چوتھی  لڑائی بیٹیوں کی چہروں پر مسکراہٹ لانے کے لئے شروع کی تھی ،   جسے پورے ملک نے آپ کی قیادت میں جیتنے کی کوشش کی ہے، واقعی  ہر بیٹی کے والد اور بیٹیوں کے چاہنے والوں کے لئے بہت بڑی بات ہے  ۔

وزیر اعظم- سنیل جی، آپ کی بیٹی اب کیسی ہے، ان دنوں کیا کر رہی ہے؟

سنیل-  جی ، میری بیٹیاں نندنی اور  یاچیکا ہیں، ایک ساتویں کلاس میں پڑھ رہی  ہے اور  ایک چوتھی کلاس میں پڑھ رہی ہے اور وہ  آپ کی بہت بڑی مداح ہے  ۔ انہوں نے  آپ کے لئے تھینک یو پرائم منسٹر کرکے اپنی کلاس میٹس جو ہیں ، لیٹر بھی لکھوائے تھے ۔

وزیراعظم - واہ واہ! اچھی بیٹیوں کو آپ میرا اور من کی بات سننے والوں کا ڈھیروں آشیر  واد  دیجئے ۔

سنیل- آپ کا بہت بہت شکریہ، آپ کی وجہ سے ملک کی بیٹیوں کے چہروں پر مسکراہٹ مسلسل بڑھ رہی ہے۔

وزیر اعظم - بہت بہت شکریہ سنیل جی۔

سنیل - شکریہ۔

ساتھیو ، میں بہت مطمئن ہوں کہ 'من کی بات' میں ہم نے ملک کی خواتین کی طاقت کی سینکڑوں متاثر کن کہانیوں کا ذکر کیا ہے۔ ہماری فوج ہو یا کھیلوں کی دنیا، میں نے جب بھی خواتین کی کامیابیوں کی بات کی ہے، ان کی بہت تعریف کی گئی ہے۔ جیسا کہ ہم نے چھتیس گڑھ کے دِیور گاؤں کی خواتین کے بارے میں بات کی۔ یہ خواتین سیلف ہیلپ گروپس کے ذریعے گاؤں کے چوراہوں، سڑکوں اور مندروں کو صاف کرنے کی مہم چلاتی ہیں۔ اسی طرح، ملک نے تمل ناڈو کی قبائلی خواتین سے بھی بہت زیادہ ترغیب لی، جنہوں نے ہزاروں ماحول دوست ٹیراکوٹا کپ برآمد کیے۔ تمل ناڈو میں ہی 20,000 خواتین ویلور میں ناگ ندی کو زندہ کرنے کے لیے اکٹھی ہوئیں۔ ایسی بہت سی مہمات کی قیادت ہماری  ناری شکتی نے کی ہے اور 'من کی بات' ان کی کوششوں کو سامنے لانے کا ایک پلیٹ فارم بن گیا ہے۔

ساتھیو، اب ہمارے پاس فون لائن پر ایک اور  شخص موجود ہیں ۔ ان  کا نام منظور احمد ہے۔ 'من کی بات' میں جموں و کشمیر کی  پینسل سلیٹس کے بارے میں بات کرتے ہوئے منظور احمد جی کا ذکر کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم - جناب منظور صاحب کیسے ہیں آپ؟

منظور- شکریہ  سر …   بہت اچھے  سے ہیں سر ۔

وزیر اعظم- من کی بات کے اس 100ویں ایپی سوڈ میں آپ سے بات کرتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے۔

منظور۔ شکریہ سر ۔

وزیر اعظم- اچھا،  یہ پینسل سلیٹس والا  کام کیسا چل رہا ہے؟

منظور - بہت اچھا چل رہا ہے  سر ، بہت اچھا  سر ، جب سے آپ نے 'من کی بات' میں ہمارے بارے میں بات کی ہے، تب سے  بہت کام بڑھ گیا ہے اور دوسروں کا  اس کام میں روزگار بہت بڑھ گیا ہے۔

وزیراعظم: اب کتنے لوگوں کو روزگار ملتا ہوگا؟

منظور - اب میرے پاس 200 پلس ہیں...

وزیر اعظم - اوہ واہ!  مجھے بہت خوشی ہوئی ۔

منظور -  سر جی..  سر جی … اب میں اسے ایک دو مہینے میں اس کو اور بڑھا رہا ہوں اور 200 لوگوں کا روزگار بڑھ جائے گا  سر ۔

وزیراعظم - واہ واہ!  دیکھئے منظور جی...

منظور -  جی سر...

وزیر اعظم- مجھے اچھی طرح یاد ہے اور اس دن آپ نے مجھے بتایا تھا کہ یہ ایسا کام ہے  ، جس کی کوئی پہچان نہیں، کوئی اپنی شناخت نہیں اور آپ کو بہت تکلیف  بھی تھی اور اس کی وجہ سے آپ کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔  لیکن اب تو آپ کی پہچان بھی بن گئی ہے  اور  200 سے زیادہ  لوگوں کو روزگار دے رہے ہیں۔

منظور -  جی سر – جی سر ۔

وزیراعظم-  آپ نے نئی توسیع کرکے اور 200 لوگوں کو روزگار دے کر بڑی خوشی کی خبر دی ہے۔

منظور - یہاں تک کہ جناب، یہاں کے کسانوں کو بھی اس سے بہت فائدہ ہوا،  سر ۔ ایک درخت 2000 میں بکتا تھا، اب وہی درخت 5000 تک پہنچ گیا ہے  سر ۔ اس کے بعد سے اس کی مانگ اتنی بڑھ گئی ہے..اور یہ اس کی اپنی پہچان بھی بن گئی ہے،  سر  میرے پاس اس کے بہت سے آرڈرز ہیں، ابھی  میں  آئندہ ایک دو مہینے  میں  اور ایکسپینڈ کرکے دو – ڈھائی سو ، دو چار گاؤوں میں جتنے بھی لڑکے لڑکیاں ہیں ، اس میں کام کر سکتے ہیں  ، اُن کی بھی   روزی  روٹی چل سکتی ہے سر ۔

وزیر اعظم- دیکھیے  منظور جی،  ووکل فار لوکل  کی طاقت کتنی زبردست ہے، آپ نے  اسے زمین پر  اتار کر دکھا دیا ہے ۔

منظور -  جی سر ۔

وزیر اعظم- آپ کو اور گاؤں کے تمام کسانوں اور آپ کے ساتھ کام کرنے والے تمام ساتھیوں کے لیے  میری طرف سے بہت سی نیک خواہشات، شکریہ بھائی۔

منظور ۔ شکریہ سر ۔

ساتھیو، ہمارے ملک میں بہت سے ایسے باصلاحیت لوگ ہیں  ، جو اپنی محنت کی بدولت کامیابی کے معراج پر پہنچے ہیں۔ مجھے یاد ہے، وشاکھاپٹنم کے وینکٹ مرلی پرساد جی نے   خود کفیل بھارت کا چارٹ شیئر کیا تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ کس طرح زیادہ سے زیادہ  بھارتی مصنوعات کا استعمال کریں گے۔ جب بیتیا کے پرمود جی نے ایل ای ڈی بلب بنانے کے لیے ایک چھوٹا یونٹ قائم کیا  تھا  ،  گڑھ مکتیشور کے سنتوش جی نے چٹائیاں بنانے کا کام کیا ،  'من کی بات'   ہی ، اُن کی مصنوعات کو سب کے سامنے لانے کا ذریعہ بنی ۔ ہم نے 'من کی بات' میں میک ان انڈیا  سے لے کر   اسپیس اسٹارٹ اپس  تک کی  بات چیت کی ہے ۔

ساتھیو، آپ کو یاد ہوگا کہ چند  ایپیسوڈ پہلے  ، میں نے منی پور کی بہن وجے شانتی دیوی کا بھی ذکر کیا تھا۔ وجے شانتی جی کمل کے ریشوں سے کپڑے بناتی ہیں۔ جب 'من کی بات' میں ان کے اس منفرد ماحول دوست آئیڈیا کے بارے میں بات کی گئی تو ان کا کام زیادہ مقبول ہوا۔ آج وجے شانتی جی فون پر ہمارے ساتھ ہیں۔

وزیر اعظم:- نمستے وجے شانتی جی! آپ کیسی ہو؟

وجے شانتی جی:- سر، میں ٹھیک ہوں۔

وزیراعظم:- اور آپ کا کام کیسا چل رہا ہے؟

 وجے شانتی جی:- جناب، اب بھی میں  30 خواتین کے ساتھ  مل کر کام کر رہی ہوں ۔

وزیراعظم:- اتنی مختصر مدت میں آپ 30 افراد کی ٹیم تک پہنچ گئی ہیں!

جے شانتی جی:- ہاں  سر  ، اس سال  میں اپنے علاقے میں 100 خواتین کے ساتھ  اور توسیع کروں گی ۔

وزیراعظم: تو آپ کا ہدف 100 خواتین ہیں۔

وجے شانتی جی :-  جی! 100 خواتین

وزیر اعظم:- اور اب لوگ اس لوٹس اسٹیم فائبر سے واقف ہیں۔

وجے شانتی جی:- ہاں  سر ، پورے  بھارت میں 'من کی بات' پروگرام  کے ذریعے  اب سب جان چکے ہیں۔

وزیر اعظم: - تو اب یہ بہت مشہور ہے۔

وجے شانتی جی:- ہاں  سر ، وزیر اعظم کے 'من کی بات' پروگرام سے ہر کوئی کمل کے فائبر کے بارے میں جان گیا ہے ۔

وزیراعظم: تو اب آپ کو  مارکیٹ  بھی مل گیا ہے ؟

وجے شانتی جی:- ہاں، مجھے امریکہ  کا ایک مارکیٹ ملا ہے  ، وہ  اسے بڑی مقدار میں خریدنا چاہتے ہیں، لیکن میں اس سال سے  یہ امریکہ بھیجنا  شروع کروں گی ۔

وزیر اعظم:-  یعنی اب آپ  ایک بر آمد کار بن گئی ہیں؟

وجے شانتی جی:-  جی سر ، اس سال سے میں   بھارت میں بنی ہوئی لوٹس فائبر کی مصنوعات برآمد کر رہی  ہوں۔

وزیر اعظم:- تو، جب میں کہتا ہوں ووکل فار لوکل اور اب لوکل فار گلوبل ۔

وجے شانتی جی:-  جی سر ، میں اپنی  مصنوعات کو پورے عالم میں  ، پوری دنیا تک پہنچانا چاہتی  ہوں  ۔

وزیر اعظم: - تو مبارکباد اور آپ کے لیے نیک خواہشات ۔

وجے شانتی جی:- شکریہ  سر ۔

وزیر اعظم:- شکریہ، شکریہ وجئے شانتی ۔

وجے شانتی جی:-  آپ کا شکریہ  سر ۔

ساتھیو، 'من کی بات' کی ایک اور خاصیت رہی ہے۔ 'من کی بات' کے ذریعے کئی عوامی تحریکوں نے جنم لیا اور  رفتار بھی پکڑی ہے ۔ مثال کے طور پر،  ہمارے کھلونے  ، ہماری ٹوئے انڈسٹری کو دوبارہ قائم کرنے کا مشن 'من کی بات' سے  ہی شروع ہوا تھا ۔    بھارتی نسل کے دیسی کتوں کو لے کر بیداری بڑھانے کا آغاز بھی تو   'من کی بات'  سے ہی کیا گیا تھا  ۔ ہم نے ایک اور مہم شروع کی تھی کہ ہم غریب چھوٹے دکانداروں سے  مول بھاؤ نہیں کریں گے، جھگڑا نہیں کریں گے۔ جب 'ہر گھر ترنگا' مہم شروع ہوئی تب بھی  'من کی بات' نے  ، ہم وطنوں کو اس عہد سے جوڑنے میں اہم رول ادا کیا۔ ایسی ہر مثال معاشرے میں تبدیلی کا سبب بنی ہے۔ پردیپ سنگوان جی نے بھی سماج کو تحریک دینے کا ایسا کام  کیا ہے۔ 'من کی بات' میں، ہم نے پردیپ سنگوان جی کی 'ہیلنگ ہمالیہ' مہم پر تبادلہ خیال کیا تھا ۔ وہ فون لائن پر ہمارے ساتھ ہیں ۔

مودی جی - پردیپ جی نمسکار!

پردیپ جی - سر جئے ہند۔

مودی جی - جئے ہند، جئے ہند، بھائی! آپ کیسے ہو ؟

پردیپ جی -  سر بہت بڑھیا  ،  آپ کی آواز سن کر اور بھی اچھا ۔

مودی جی - آپ نے ہمالیہ کو  ہیل کرنے کا سوچا ۔

پردیپ جی - جی سر ۔

مودی جی  -   مہم  چلائی ، آج کل آپ کی مہم کیسی  چل رہی ہے؟

پردیپ جی - سر یہ بہت اچھی  چل رہی ہے۔   2020  ء سے یقین کریں  ، جو کام ہم پانچ سال میں کرتے تھے  ، وہ اب ایک سال میں ہو جاتا ہے۔

مودی جی -  ارے  واہ!

پردیپ جی - جی ہاں،  سر ۔ شروع میں، میں بہت گھبرایا ہوا تھا، مجھے اس بات کا بہت ڈر تھا کہ کیا میں ساری زندگی یہ کام کر پاؤں گا  یا نہیں کر پاؤں گا لیکن مجھے کچھ سہارا ملا اور  2020  ء تک،  ہم بہت جدو جہد بھی کر رہے تھے  ۔ لوگ بہت کم  جڑ رہے تھے، بہت سے لوگ ایسے تھے  ، جو تعاون نہیں کر پا رہے تھے۔ وہ ہماری مہم پر بھی اتنی توجہ نہیں دے رہے تھے لیکن  2020  ء کے بعد جب 'من کی بات' میں اس کا ذکر آیا تو بہت سی چیزیں بدل گئیں۔ مطلب کہ پہلے ہم ایک سال میں 6-7 کلیننگ ڈرائیوز کرتے تھے، اب ہم 10 کلیننگ ڈرائیوز کرتے  ہیں ۔ آج کی تاریخ میں ہم روزانہ کی بنیاد پر الگ الگ مقامات سے پانچ ٹن کچرا جمع کرتے ہیں۔

مودی جی -  واہ  واہ!

پردیپ جی - سر، 'من کی بات' میں ذکر ہونے کے بعد، یقین کریں کہ میں ایک وقت میں تقریباً  چھوڑنے کے مرحلے پر  پہنچ گیا تھا اور اس کے بعد میری زندگی میں بہت سی تبدیلیاں آئیں اور چیزیں اتنی تیز رفتار ہو گئیں کہ جو چیزیں ہم نے سوچی بھی نہیں تھی ، وہ ہونے لگیں  ۔  میں واقعی شکر گزار ہوں کہ مجھے نہیں معلوم کہ آپ ہم جیسے لوگوں کو کیسے ڈھونڈ لیتے ہیں۔ اتنے دور افتادہ علاقے میں کون کام کرتا ہے، ہم ہمالیائی علاقے میں بیٹھ کر کام کر رہے ہیں۔ ہم اس بلندی پر کام کر رہے ہیں۔ آپ نے ہمیں وہاں  ڈھونڈ لیا ۔ ہمارے کام کو دنیا کے سامنے   لے کر آئے ۔ اس لیے یہ میرے لیے  ، اس وقت بھی اور آج بھی بہت جذباتی لمحہ تھا کہ میں اپنے ملک کے  اوّلین خادم ( پرتھم سیوک )  کے ساتھ بات چیت کر پا رہا ہوں۔ میرے لیے اس سے زیادہ خوش قسمتی  کی بات کوئی نہیں ہو سکتی۔

مودی جی - پردیپ جی! آپ ہمالیہ کی چوٹیوں پر حقیقی معنوں میں  سادھنا کر رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ اب آپ کا نام سن کر لوگوں کو یاد  آتا جاتا ہے کہ آپ  کیسے پہاڑوں کی  سووچھتا مہم میں جڑے ہیں۔

پردیپ جی - جی  سر ۔

مودی جی – اور جیسا کہ آپ نے بتایا کہ اب ایک بہت بڑی ٹیم بنتی  جا رہی ہے اور آپ روزانہ اتنا بڑا کام کر رہے ہیں۔

پردیپ جی - جی  سر ۔

مودی جی – اور مجھے پورا بھروسہ ہے کہ آپ کی ان کوششوں کی وجہ سے، اس پر  بات چیت سے ، اب  تو کتنے ہی کوہ پیما  صفائی  ستھرائی سے متعلق تصاویر پوسٹ کرنے لگے ہیں۔

پردیپ جی - جی  سر ! بہت

مودی جی - یہ اچھی بات ہے، آپ جیسے ساتھیو کی کوششوں سے،   کچرا بھی دولت بن رہا ہے ، یہ  بات اب لوگوں کے دماغ میں بیٹھ رہی ہے اور ماحولیات کا بھی تحفظ ہو رہا ہے اور ہمالیہ  کا ، جو ہمارا فخر ہے ، اسے سنوارنا اور سنبھالنا ، اس سے لوگ جڑ رہے ہیں  ۔ پردیب جی ، بہت اچھا لگا مجھے ، بہت شکریہ بھیا ۔

پردیپ جی -  شکریہ  سر  آپ کا بہت بہت شکریہ جئے ہند۔

ساتھیو، آج ملک میں سیاحت بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہمارے قدرتی وسائل ہوں، دریا ہوں، پہاڑ ہوں، تالاب ہوں یا ہمارے مقدس مقامات ہوں ، ان کو صاف ستھرا رکھنا بہت ضروری ہے۔ اس سے سیاحت کی صنعت کو بہت مدد ملے گی۔ سیاحت میں صفائی کے ساتھ ساتھ ہم نے بے مثال بھارت مہم   پر بھی کئی مرتبہ بات کی ہے۔ اس تحریک کی وجہ سے پہلی بار لوگوں کو بہت سی ایسی جگہوں کے بارے میں معلوم ہوا، جو ان کے آس پاس  ہی موجود تھیں ۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ بیرون ملک سیاحت پر جانے سے پہلے ہمیں اپنے ملک کے کم از کم 15 سیاحتی مقامات کی سیر کرنی چاہیے اور یہ مقام ، اس ریاست  کا نہیں ہونا چاہیے  ، جہاں آپ رہتے ہیں، آپ کی ریاست سے باہر کسی دوسری ریاست کے ہونے چاہئیں ۔ اسی طرح ہم نے  سووچھ سیاچن، سنگل یوز پلاسٹک اور ای ویسٹ جیسے سنجیدہ موضوعات پر مسلسل بات کی ہے۔ آج 'من کی بات' کی یہ کوشش ماحولیاتی مسئلے کو حل کرنے میں بہت اہم ہے  ، جس پر پوری دنیا پریشان ہے۔

ساتھیو، اس بار مجھے یونیسکو کے ڈی جی، آدرے  ازولے کی طرف سے 'من کی بات' کے حوالے سے ایک اور خاص پیغام ملا ہے۔ انہوں نے تمام ہم وطنوں کو 100 ایپیسوڈ کے اس شاندار سفر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کچھ سوالات پوچھے ہیں ۔   آئیے  ، پہلے یونیسکو کے ڈی جی کے  دِل کی  بات سنتے ہیں۔

#Audio (UNESCO DG)#

ڈی جی یونیسکو: نمستے ایکسی لینسی، محترم وزیر اعظم یونیسکو کی جانب سے میں 'من کی بات' ریڈیو نشریات کے 100ویں ایپی سوڈ کا حصہ بننے کے لیے ، اس موقع کے لیے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یونیسکو اور  بھارت کی ایک طویل مشترکہ تاریخ  رہی ہے۔ ہمارے مینڈیٹ کے تمام شعبوں میں ایک ساتھ بہت مضبوط شراکت داری ہے - تعلیم، سائنس، ثقافت اور معلومات اور میں آج اس موقع  پر تعلیم کی اہمیت کے بارے میں بات کرنا چاہوں گا۔ یونیسکو اپنے رکن ممالک کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے کہ  2030  ء تک دنیا میں ہر کسی کو معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہو۔ دنیا کی سب سے بڑی آبادی کے ساتھ، کیا آپ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے  بھارتی طریقہ کی وضاحت کر سکتے ہیں۔ یونیسکو ثقافت کی حمایت اور ورثے کے تحفظ کے لیے بھی کام کرتا ہے اور  بھارت اس سال جی – 20   کی صدارت کر رہا ہے۔ اس تقریب میں عالمی رہنما دلّی آئیں گے۔ محترم،  بھارت کس طرح ثقافت اور تعلیم کو بین الاقوامی ایجنڈے میں سرفہرست رکھنا چاہتا ہے؟ میں ایک بار پھر  یہ موقع    دینے کے  لئے ، آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور آپ کے ذریعے  بھارت کے لوگوں  کو اپنی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں.... جلد ہی ملتے ہیں۔ بہت بہت شکریہ ۔

وزیر اعظم مودی: آپ کا شکریہ،  سر ۔ مجھے 100ویں 'من کی بات' پروگرام میں آپ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے خوشی ہو ئی  ہے۔  میں اس بات  پر بھی خوش ہوں کہ آپ نے تعلیم اور ثقافت کے اہم مسائل کو اٹھایا ہے۔

ساتھیو، یونیسکو کے ڈی جی نے تعلیم اور ثقافتی تحفظ کے سلسلے میں  بھارت کی کوششوں کے بارے میں جاننا چاہا ہے۔ یہ دونوں موضوعات 'من کی بات' کے پسندیدہ موضوعات رہے ہیں۔

چاہے بات تعلیم کی ہو یا ثقافت کی، چاہے اس کے تحفظ کی ہو یا فروغ کی، یہ  بھارت کی قدیم روایت رہی ہے۔ آج ملک  ، اس سمت میں  ، جو کام کر رہا ہے  ، وہ  واقعی قابل ستائش ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی ہو یا علاقائی زبان میں تعلیم حاصل کرنے کا اختیار، تعلیم میں ٹیکنالوجی کا انضمام، آپ کو ایسی بہت سی کوششیں  دیکھنے کو ملیں گی۔ برسوں پہلے گجرات میں  بہتر تعلیم دینے اور اسکول چھوڑنے والوں کی شرح کو کم کرنے کے لئے ، 'گنو اُتسو اور شالا پرویشو اُتسو' جیسے پروگرام عوامی شراکت کی شاندار مثال بنے تھے ۔   'من کی بات' میں، ہم نے ایسے بہت سے لوگوں کی کوششوں کو اجاگر کیا ہے، جو تعلیم کے لیے بے لوث کام کر رہے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا، ایک بار ہم نے اوڈیشہ  میں ٹھیلے پر چائے بیچنے والے آنجہانی ڈی پرکاش راؤ  جی کے بارے میں بات کی تھی  ، جو غریب بچوں کو پڑھانے کے مشن میں  لگے ہوئے تھے۔ جھارکھنڈ کے دیہات میں ڈیجیٹل لائبریریاں چلانے والے سنجے کشیپ ہوں،  کووڈ کے دوران ای لرننگ کے ذریعے بہت سے بچوں کی مدد کرنے والی ہیم لتا این کے جی ہوں  ، ایسے بہت سے اساتذہ کی مثالیں ہم نے  'من کی بات'  میں  شامل کی ہیں  ۔ ہم نے 'من کی بات' میں ثقافتی تحفظ کی کوششوں کو بھی مستقل جگہ دی ہے۔

لکشدیپ کے کمیل  برادرس چیلنجرز کلب ہو  یا کرناٹک کے  'کوئیم  شری'  ،   'کلا چیتنا' جیسے فورم ہوں ، ملک کے کونے کونے سے لوگوں نے مجھے خط لکھ کر ایسی مثالیں بھیجی ہیں۔ ہم نے ان تین مقابلوں کے بارے میں بھی بات کی  ، جو حب الوطنی پر 'گیت'، 'لوری' اور 'رنگولی' سے  جڑے تھے۔ آپ کو یاد ہوگا، ایک بار ہم نے ملک بھر   سے  داستان گو افراد سے داستان گوئی کے ذریعے تعلیم کے بھارتی طریقوں پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ مجھے پختہ یقین ہے کہ اجتماعی کوششیں سب سے بڑی تبدیلی لا سکتی ہیں۔ اس سال جہاں ہم آزادی کے  امرت کال میں آگے بڑھ رہے ہیں  ، وہیں جی – 20   کی صدارت بھی کر رہے ہیں۔ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ متنوع عالمی ثقافتوں کو تقویت دینے کا ہمارا عزم مزید مضبوط ہوا ہے۔

میرے پیارے ہم وطنو، ہمارے اپنشدوں کا ایک منتر صدیوں سے ہمیں   ترغیب دیتا آیا ہے۔

चरैवेति चरैवेति चरैवेति।

चलते रहो-चलते रहो-चलते रहो।

آج ہم  اسی چریویتی چریویتی کے جذبے کے ساتھ  'من کی بات' کا 100واں  ایپیسوڈ  مکمل کر رہے ہیں۔  بھارت کے سماجی تانے بانے کو مضبوط کرنے میں، 'من کی بات' ایک مالا کے دھاگے کی طرح ہے  ، جو ہر  ایک  موتی جوڑے رکھتا ہے۔ ہر  ایپیسوڈ میں اہل وطن کی خدمت اور  صلاحیت نے دوسروں کو  تحریک دی ہے ۔ اس پروگرام میں ہر ہم وطن دوسرے ہم وطنوں کے لیے تحریک بنتا ہے۔ ایک طرح سے من کی بات کا ہر ایپیسوڈ  اگلے ایپیسوڈ کے لئے بنیاد تیار کرتا ہے۔ 'من کی بات' ہمیشہ خیر سگالی، خدمت اور فرض کے احساس کے  جذبے کے ساتھ آگے بڑھی ہے۔ آزادی کے  امرت کال میں یہ مثبتیت ملک کو آگے لے جائے گی، اسے ایک نئی بلندی پر لے جائے گی اور مجھے خوشی ہے کہ 'من کی بات' سے جو شروعات ہوئی  تھی ، وہ آج ملک میں ایک نئی روایت بن رہی ہے۔ ایک ایسی روایت  ، جس میں ہمیں    ، سب کی کوششوں  کا جذبہ  نظر آتا ہے ۔

ساتھیو، آج میں آل انڈیا ریڈیو کے ساتھیوں کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا  ،  جو بہت صبر کے ساتھ  ، اس پورے پروگرام کو ریکارڈ  کرتے ہیں ۔  وہ مترجم ، جو بہت ہی کم وقت میں ، بہت تیزی کے ساتھ 'من کی بات' کا مختلف علاقائی زبانوں میں  ترجمہ  کرتے ہیں ، میں اُن کا بھی شکر گزار ہوں ۔ میں دوردرشن  کے اور  مائی گوو  کے ساتھیوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں ملک بھر کے تمام ٹی وی چینلز، الیکٹرانک میڈیا والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جو کمرشل وقفے کے بغیر 'من کی بات' دکھاتے ہیں اور آخر میں، میں ان لوگوں کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا  ، جو 'من کی بات'  کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں – بھارت کے لوگ ، بھارت میں یقین رکھنے والے لوگ ، یہ سب کچھ آپ کی تحریک اور طاقت سے ہی ممکن ہو پایا ہے ۔ 

 

ساتھیو  ،  ویسے تو میرے دِل میں آج  اتنا کچھ  کہنے کو ہے کہ وقت اور الفاظ دونوں کم  پڑ رہے ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ آپ سب میرے جذبات کو سمجھیں گے ۔ آپ کے خاندان کے ایک فرد کے طور پر، میں 'من کی بات' کی مدد سے آپ کے درمیان رہا ہوں، آپ کے درمیان رہوں گا۔ ہم اگلے مہینے پھر ملیں گے۔ ہم ایک بار پھر نئے  موضوعات اور نئی  جانکاریوں کے ساتھ ہم وطنوں کی کامیابیوں کا جشن منائیں گے، تب تک  کے لئے مجھے وداع  دیجیے  اور اپنا اور اپنوں کا خوب خیال رکھیے ۔ بہت بہت شکریہ ۔ نمسکار  ۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's share in ship recycling rose to 35.4% in 2025: Shipping ministry

Media Coverage

India's share in ship recycling rose to 35.4% in 2025: Shipping ministry
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
India is not only a fast-growing economy, but also a credible one: PM Modi
June 22, 2026
India is not only a fast-growing economy, but also a credible one: PM
Along with being a rising power, India is also a reliable power: PM
For India, Nation First is the highest guiding principle: PM
Maoist terror is breathing its last in India: PM
The shift in mindset from "this can never be done" to "this will be done" is India's greatest achievement: PM
The government is empowering the poor and middle-class: PM
The collective efforts of 140 crore Indians will realise the dream of a Viksit Bharat: PM

Swar Sadhana, Manokamana, Aradhana - after such an auspicious beginning, it would have been wonderful if your program had continued. Greetings to all of you.

I extend my regards to all viewers of Republic TV Network, which now broadcasts in many languages. I also welcome all companions who have come to participate in this summit. In 24-hour news channels, breaking news holds great importance. And nowadays, if you look anywhere in the world, the entire world seems to be in breaking news mode. Amidst such hustle and bustle, you are hosting and participating in this summit, and therefore you deserve special congratulations. This time, your theme of discussion is equally significant: Great Power India: Nation First.

Friends,

Our scriptures say: Yato Dharmastato Jayah! - meaning, the root of victory and strength is Dharma. And Dharma means duty, Dharma means justice, Dharma means equality, Dharma means dialogue, Dharma means compassion. This very essence is embedded in the spirit of Nation First. India views its power through this lens, weighing it on this scale.

Friends,

India has another unique quality, which the world has now acknowledged. We are not a nation that reacts hastily to momentary events. We are a nation that has witnessed both development and destruction, endured them as well. We are a nation with the memory chip of ages embedded in our consciousness - a nation with the memory chip of millennia. That is why what India is doing today - and I say this with full responsibility - what India is doing today will write the future of the next thousand years. This is India’s greatest guarantee to the world. India is not only a fast-growing economy, it is also a credible economy. Alongside being a rising power - and you even stretched the dictionary to call it a superpower - I would certainly say that India is a reliable power. Just a few days ago, I returned from the G7 Summit, and every leader, every country understands very well that for today’s India, Nation First is the greatest mantra, the highest principle.

Friends,

Just a few days ago, our government completed 12 years. Arnab even compelled you to clap for that. If you weigh the achievements of the past twelve years, you will find that at the core of every decision, every step, every effort lies the spirit of Nation First. From the Swachh Bharat Abhiyan to Make in India, from emphasizing khadi to encouraging local products - all these initiatives succeeded because the people of the country placed the nation above all and fulfilled their duty. I salute the citizens of this country.

Friends,

Here with us is our companion, Shri Sridhar Vembu ji. When our entrepreneurs walk with the spirit of Nation First, when they set their goals by understanding the needs of the nation, institutions are built and the country prospers. I don’t know how much has been discussed here about Shri Vembu ji’s work, but recently I went to VivaTech in France. There were nearly 1.5 to 2 lakh young people there. As I and the President of France walked through different stalls to see the innovations of the youth, we came to the Zoho stall. I was astonished and filled with pride to see the crowd of European youth gathered there, eager to understand what this new creation was. Perhaps in India it is not discussed as much, but what I saw in France was remarkable. Congratulations to you.

Friends,

The impact of Nation First in government policy and decisions can be seen in our tribal regions. I am not here to deliver philosophy, but let me share a few light examples so you can understand how work happens. I speak of tribal areas - a population of more than 100 million, the tribal society. We all know that for decades, Maoist terror had entrenched itself there. Even in the 21st century, these terrorists did not allow a single facility to reach those areas. No government vehicle could pass through; they would be riddled with bullets. Many governments came and went, generations passed, and it seemed this misfortune of violence would remain forever. You can imagine - between 2004 and 2014, in those ten years, due to Maoist terror, more than 17,000 violent incidents occurred, and nearly 7,000 lives were lost.

Friends,

For you, today’s headline or half-hour TV debate might be that Maoist terrorism has ended. But things don’t happen like that. It requires immense effort, and that is why I want to explain. Nowadays, some people keep waving the Constitution, but when they were in government, in Naxal-affected areas, even uttering the word “Constitution” could get you shot. At that time, they sat silently, their hands trembling, unable to hold up the Constitution. The Congress was hardly affected by that painful situation.

Friends,

After 2014, we moved forward with the spirit of Nation First to change the situation. We did not just talk, we did not just announce, we acted. We resolved to uproot Naxalism-Maoism completely, and today the whole country can see the result. Maoist terrorism in India is now counting its final breaths.

And friends,

Often the final outcome is so vast and significant that the hard work behind it goes unnoticed. I want to especially tell Republic TV viewers about this.

Friends,

In those Naxal-affected areas where even going out in daylight would terrify ordinary people - fearing abduction, extortion, or looting - where even speaking of development was impossible, we advanced with a pledge of progress. In the past 12 years, our government has built more than 12,000 kilometers of roads in such regions. Many times, our construction equipment was burned, contractors were chased away. If 25 people worked on a road, 200 police personnel had to guard them so the work could continue. We did all this because we had resolved to do it.

Friends,

We built more than 9,500 mobile towers. Earlier, even one tower could not be installed, and if installed, it would be destroyed. Because they always wanted to fuel anger. We brought mobile connectivity to nearly 45,000 villages. In Naxal-affected districts, more than 1,800 bank branches were opened. Around 75,000 banking correspondents and more than 6,000 new post offices were established. We did not rely only on bombs, guns, and bullets, friends - we invested every ounce of strength given by God to win hearts.

Friends,

With firm resolve, we went into Naxal-affected areas to fulfill the hopes and aspirations of ordinary people. You will be astonished - a notorious Naxalite, with a bounty of crores on his head, his mother received a ration card from us for the first time. Her son never allowed her to get one, because he wanted to run his terror regime. There are countless such incidents. I was shocked. And the government of that time sat silently, blind to the Constitution. But the result of all these efforts was a new wave of trust among the people. Today, look at Bastar - instead of bombs and guns, Bastar Olympics are celebrated with great enthusiasm. Two editions have already been held. In the first, more than 1.5 lakh youth participated, and in the second, nearly 4 lakh youth joined. Where once there was terror, now talent is finding opportunity, and sports are flourishing.

Friends,

One of the greatest achievements of these 12 years of service has been building an India filled with hope and aspiration, rising out of despair.

Friends,

Naxalism may have been concentrated in certain areas, but its pain was felt across every corner of India. And when news began to spread that Naxalism was ending, the sense of trust was not limited to those affected regions - it spread across the entire nation. In the ten years before 2014, under the Congress government, the discontent was not only about governance. The despair was far deeper. The nation had lost hope. People felt nothing could change, nothing could improve.

Friends,

In the past 12 years, India has transformed despair into hope, and this gives me the greatest satisfaction. Today, everyone feels that with a little more effort, things can be achieved. Gone are the days when the only refrain was “It cannot happen, it cannot happen.” That era has passed. Today, the spirit is “It will happen.” This new confidence is India’s true achievement, and this is real power. Challenges remain, and they always will. Challenges are shape-shifters, appearing in new forms. But whatever form they take, we will fight and we will win. When the nation moves forward with the belief that “it can be done and we will do it,” dreams are fulfilled.

Friends,

I want to speak here about more than 100 districts and over 500 blocks in India. These were left behind on every parameter of development, and earlier governments had stamped them as “backward districts” and “backward areas.” We lifted these vast regions out of the despair of backwardness and ignited aspirations for development. First, we changed their identity. We said these are “aspirational districts,” these are “aspirational blocks.” We created programs for aspirational districts and aspirational blocks, and the government began working meticulously on every parameter of development. In each district, we identified three aspects to overcome, in others six aspects, and focused efforts began. Today, these aspirational districts and blocks are driving the overall growth of states. Earlier, they dragged growth backward. These districts had large populations living in poverty and deprivation. In recent years, 250 million poor people have defeated poverty, and aspirational districts have played a major role in this.

Friends,

We see that when one person is cured of illness, it is not just that individual who recovers - the whole family feels relief. Similarly, when a son or daughter achieves something, it is not just their achievement, but the entire family is filled with pride and confidence. In the same way, when someone rises out of poverty, the entire society benefits, the nation benefits. When 250 million people have come out of poverty and entered the neo-middle class, the benefit is not limited to those families. The middle class also gains, because these are new consumers who drive the economy, ultimately creating opportunities for the middle class. Thus, poverty reduction is not merely a matter of welfare - it is a story of expanding opportunities, a source of new aspirations.

Friends,

The vast middle class that has emerged in the country over the past 12 years has been a major priority for the government. For the ease of living of the middle class, the government has worked at every level. Take the dream of owning a home. Every middle-class family desires to have their own house. In 2014, if a family wanted to buy a home, home loans came with double-digit interest rates. Today, loans are available from banks at 7–8 percent interest. Earlier, getting a loan was like winning a war, requiring immense effort. Today, it is possible from the comfort of one’s home. Here in Delhi-NCR, people know how thousands of urban middle-class homes were stuck incomplete. Families had paid their life savings to builders, who showed glossy pamphlets and dreams, but the houses were never delivered. Families had to pay rent while waiting endlessly for their homes. It was a terrible situation. To complete these stalled projects, we created a special fund of ₹25,000 crore. You will be glad to know that nearly 60,000 long-delayed homes have now been delivered across the country.

Friends,

Another aspect that affects daily life is connectivity and transport. Today, if you look at social media, tourists from around the world are amazed by our metro system.

Friends,

In 2014, about 2.8 million people traveled daily by metro. Today, nearly 12.8 million people travel by metro every day. Now, high-speed trains like Vande Bharat, Namo Bharat, and Amrit Bharat are connecting the nation. With better roads and highways, not only is time saved, but vehicle maintenance costs have also reduced. In recent years, the number of airports has doubled. This has given the middle class in many smaller cities the opportunity to fly for the first time.

Friends,

In the past 12 years, India has not only increased the earnings of the middle class but also their savings. In 2013–14, income up to about ₹2 lakh was taxable, and the middle class bore that burden. Today, income up to ₹12 lakh is tax-free. In other words, tax-free income has multiplied several times.

Friends,

GST reforms have also brought great convenience to the middle class. Filing taxes has become easier, saving both time and money. Income tax returns can now be filed from home, and even settlement issues are handled in a faceless manner.

Friends,

A major expense for middle-class families is treatment for diabetes and other lifestyle-related conditions. At Jan Aushadhi Kendras, such medicines are available at an 80 percent discount. If earlier you spent ₹1,000, today you spend only ₹200, saving ₹800. Over the years, this has resulted in savings of nearly ₹40,000 crore for countless families. Another significant portion of the middle-class budget goes toward healthcare for the elderly. Today, every citizen above 70 years of age is entitled to free treatment up to ₹5 lakh.

Friends,

It is human nature to forget past difficulties when conveniences become routine. Earlier, you paid tax on ₹2 lakh income; now, up to ₹12 lakh is tax-free. Yet applause comes only when reminded. On the other hand, if a bus or train is delayed, complaints pour in. This is the most vocal class.

Friends,

As I said, people forget old troubles. You may not even remember the difficulties once faced in getting a driving license or passport. Earlier, it was a struggle. Today, obtaining a driving license is easier, and passports are usually issued within three days.

Friends,

I know the way our government works has raised people’s aspirations. Once a demand is met, people immediately seek something better, something upgraded. If earlier the demand was for a new road, once built, the next question is: when will the metro arrive? Earlier, expectations were that trains should arrive on time and provide clean seating. Today, the demand is: why isn’t Vande Bharat running on our route?

Friends,

Some see this as dissatisfaction, but it is aspiration. In fact, even the Congress party constantly says, “Modi ji, this should happen, that should happen.” They trust that if anyone can deliver, it is this government.

Friends,

Aspirations arise only where people believe dreams can be fulfilled. This is the aspiration of India’s youth, poor, and middle class. Today, it is the driving energy of BJP-NDA governments.

Friends,

On one side, a large section of the nation is aspirational. On the other side, there is a political group whose life mantra has become “Always Against.” This group is filled with chronic dissatisfaction. Let me share some symptoms so Republic TV viewers can recognize them. They will say, “Why doesn’t this place have 24-hour electricity?” But the next day, they protest against dams, solar parks, thermal plants, or nuclear projects. One day they ask why there is no electricity, the next day they oppose power generation. These are the same people who once opposed mineral mining, but today ask where India’s rare earth mineral reserves and supply chains are, and why India doesn’t have an EV ecosystem like other countries. They once debated “data versus flour,” but now demand to know what India has done in AI. In one breath, they say AI should have advanced further, and in the next, they oppose data centers and semiconductor plants, listing endless drawbacks on social media, TV debates, and newspapers.

Friends,

These people bring up corruption indices from around the world to put India in the dock. Their ecosystem’s media amplifies it 24/7. But when action is taken against corruption, they are the first to cry foul, claiming raids and investigations are harassment. They question why action is taken now, why not then, why against A and not B. This is their game.

Friends,

It is vital for the nation to understand their character. Especially our youth, and Gen Z in particular, must recognize them quickly. Otherwise, as I say, “Suryavanshi has arrived,” and he explains swiftly.

Friends,

These people claim the armed forces lack freedom and weapons. But when the government makes a defense deal or buys modern arms, they are the first to question why. They challenge India’s diplomacy worldwide, but when India builds infrastructure projects for diplomacy and security, they protest loudly.

Friends,

At this crucial juncture, India must identify such people, understand their flawed arguments, and remain alert. Unfortunately, today the main opposition party, Congress, has been taken over by such elements. To imagine Congress speaking of Nation First, as it did in Gandhi ji’s time, is now a false dream.

Friends,

The world today is challenging old paradigms, and the scale of disruption is immense. But these challenges also bring new opportunities. Every youth, entrepreneur, innovator, and startup in India must focus on these opportunities. The government, with the spirit of Nation First, stands fully with the people. India is now riding the Reform Express. This momentum will only accelerate. From this Republic TV platform, I say again: our dreams are vast, and our efforts will be equally immense. The collective endeavor of 1.4 billion Indians will build a developed India. And I assure you, you will see this developed India with your own eyes. It will not be left for future generations to wait. With this confidence, I once again extend my best wishes to Republic TV, its viewers, and all of you. Thank you very much!