نکّڑ ناٹک سے ریل بنانے تک— جین زی کاشی تمل سنگمم کا نیا چہرہ بن کر ابھرے

جین زی میں جوش کی ایک مضبوط لہر دیکھنے کو مل رہی ہے، کیونکہ وہ 2 دسمبر سے شروع ہونے والے کاشی تمل سنگمم 4.0 کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس پروگرام کا مقصد کاشی اور تمل ناڈو کے قدیم ثقافتی اور لسانی روابط کو نوجوان نسل کی متحرک توانائی سے جوڑنا ہے۔

بڑی تعداد میں جین زی کے طلبہ پہلے وفد کا حصہ ہیں، جو 29 نومبر کو کنیاکُماری سے خصوصی ٹرین کے ذریعے اپنے سفر کا آغاز کر چکے ہیں۔ یہ طویل ریل سفر ایک ثقافتی خوشیوں کی سواری میں تبدیل ہو گیا ہے، جس میں کھیل، گروپ سرگرمیاں، متحرک گفتگو اور تخلیقی تعاون شامل ہیں—جس سے نوجوانوں کے لیے یہ تجربہ یادگار اور بامعنی بن گیا ہے۔

 

Archana from Tamil Nadu, who is travelling on this special train, shared her excitement about attending Kashi Tamil Sangamam 4.0. She said she rarely gets the chance to visit temples back home, and therefore sees this opportunity as a divine blessing. She is eagerly looking forward to experiencing Kashi’s rich spiritual and cultural heritage for the first time.

 

 

Another student on board, Malathi from Tiruppur—who is preparing for UPSC—said that Tamil Nadu and Kashi share a deep spiritual bond, celebrated for centuries by saints like Manikkavasagar. Kashi Tamil Sangamam, she said, is strengthening that bond in a modern, dynamic format, and visiting Kashi feels like a moment of pride for her.

 

Meanwhile in Kashi, the ongoing pre-event activities at ghats and university campuses have come alive with energetic participation from GenZ. Events like Run for KTS 4.0 drew large numbers of youth who not only promoted fitness but also helped spread awareness about the upcoming cultural festival.

 

Street plays performed around the Vishwanath Temple area and various ghats showcased GenZ’s creative expression, presenting the historic and cultural connect between Kashi and Tamil Nadu in a fresh, artistic way. Reel-making competitions have further amplified the excitement, as young creators share glimpses of the event across social media—sparking curiosity and engagement among youth nationwide.

This year’s theme for Kashi Tamil Sangamam 4.0 is “Learn Tamil – Tamil Karkalam”, which aims to bring language and culture closer to people. The active involvement of GenZ is making this theme even more relevant and impactful.

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Tax Bill 2026 clears tax hurdles for electronics manufacturing and boosts India's global supply chain competitiveness

Media Coverage

Tax Bill 2026 clears tax hurdles for electronics manufacturing and boosts India's global supply chain competitiveness
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
وزیر اعظم نے تقسیم کے ہولناک واقعات کی یاد کے دن تقسیم سے متاثرہ افراد کی بہادری کو خراج تحسین پیش کیا
August 14, 2026
وزیر اعظم نے محنت اور انسانی جدوجہد کی طاقت کو اجاگر کرتے ہوئے سنسکرت سبھاشتم شیئر کیا 

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج کہا کہ تقسیم ہند کی ہولناکیوں کی یاد کے دن کے موقع پر ہم ان تمام لوگوں کی ہمت اور حوصلے کو یاد کرتے ہیں جو تقسیم سے متاثر ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخ کا وہ المناک باب تھا جس نے بے شمار زندگیاں اجاڑ دیں، خاندانوں کو اپنے گھر بار سے محروم ہونا پڑا، متعددلوگوں کو اپنوں کو کھونا پڑا اور لوگوں کو بے پناہ مصائب برداشت کرنے پڑے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس کے باوجود لوگوں نے تمام تر مشکلات پر قابو پاتے ہوئے ازسرنو اپنی زندگیاں سنواریں، نامساعد حالات کو کامیابی میں بدلا اور ملک کی ترقی میں گراں قدر تعاون دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کی زندگی کےمشکلوں بھرا سفر ہمیں انسانی عزم و حوصلے کی قوت کا احساس دلاتے ہیں۔ جناب مودی نے امید ظاہر کی کہ یہ دن ہمارے ملک میں ہم آہنگی اور بھائی چارے کے تحفظ کے عزم کو مزید مضبوط کرے گا اور ہمیں ایک ساتھ مل کر ایک وکست بھارت کی تعمیر کی سمت کام کرنے کی ترغیب دے گا۔

وزیر اعظم نے ان تمام ہم وطنوں کو دلی خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے اس ہولناک دور سے نکل کر ملک کی ترقی میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی ہمت اور صلاحیت کے ذریعے ان لوگوں نے ثابت کیا کہ نامساعد حالات میں بھی عزم و ارادوں کو حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ جناب نریندر مودی نے سبھی لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ملک میں خیرسگالی اور باہمی یکجہتی کے جذبے کو مزید مضبوط کریں۔

وزیر اعظم نے ایک سنسکرت سبھاشتم شیئر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ محنت، جدوجہد اور لگن کے ذریعے مختلف فنون، علوم، سائنسی و تکنیکی مہارتیں، ہنرمندی اور اختراعات فروغ پاتی ہیں اور کامیابی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس لیے انسان کو قسمت کے سہارے بیٹھے نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہمت، محنت اور مسلسل کوشش کے ساتھ اپنے مقاصد کی جانب ثابت قدمی سے آگے بڑھنا چاہیے، کیونکہ انسانی جدوجہد ہی تقدیر کی تشکیل کرتی ہے۔

وزیر اعظم نے ایکس پر سلسلہ وار پوسٹس میں لکھا:

آج ہم تقسیم ہند# کی ہولناکیوں کی یادکادن منا رہے ہیں۔ ہم ان تمام لوگوں کی ہمت و حوصلے کو یاد کرتے ہیں جو تقسیم سے متاثر ہوئے تھے۔ یہ تاریخ کا ایک ایسا لمحہ تھا جس نے بے شمار زندگیاں تہس نہس کر دیں… خاندان اجڑ گئے، اپنوں سے بچھڑنا پڑا اور لوگوں کو بے پناہ مصائب اور مشکلات برداشت کرنا پڑے۔

اس کے باوجود لوگوں نے ان حالات پر قابو پاتے ہوئے صفرسطح سے اپنی زندگیاں دوبارہ سنواریں، مشکلات کو کامیابی میں بدلا اور ملک کی ترقی میں بے حد اہم کردار ادا کیا۔ ان کی زندگی کے سفر ہمیں انسانی عزم و حوصلے کی قوت کا احساس دلاتے ہیں۔’’یہ دن ہمارے ملک میں باہمی ہم آہنگی اور بھائی چارے کے تحفظ کے عزم کو مزید مضبوط کرے اور ہم سب کو مل کر ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے کام کرنے کی ترغیب دے۔‘‘

’تقسیم ہند کی ہولناکیوں کی یاد کے دن کے موقع پر ان تمام ہم وطنوں کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں، جنہوں نے اس ہولناک دور سے نکل کر ملک کی ترقی میں گراں قدر کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنی ہمت اور صلاحیت سے یہ ثابت کیا کہ نامساعد حالات میں بھی اپنے عزم و ارادوں کو کس طرح پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ آئیے، خیرسگالی اور قومی یکجہتی کے جذبے کو مزید مضبوط کریں۔‘

उद्यमस्य प्रसादेन दृश्यन्ते विविधाः कलाः।

कातरा एव जल्पन्ति यद् भाव्यं तद् भविष्यति॥”

محنت، جدوجہد اور لگن کے ذریعے ہی مختلف فنون، علوم، سائنسی و تکنیکی مہارتیں، ہنرمندی اور اختراعات فروغ پاتی ہیں اور کامیابی کی راہ ہموار کرتی ہیں۔ اس لیے انسان کو قسمت کے سہارے بیٹھے نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہمت، محنت اور مسلسل کوشش کے ساتھ اپنے مقاصد کی جانب ثابت قدمی سے آگے بڑھنا چاہیے، کیونکہ انسان کی جدوجہد ہی تقدیر کو تشکیل دیتی ہے۔