Modalities of COVID-19 vaccine delivery, distribution and administration discussed
Just like the focus in the fight against COVID has been on saving each and every life, the priority will be to ensure that vaccine reaches everyone: PM
CMs provide detailed feedback on the ground situation in the States

نئی دہلی:24 نومبر، 2020:سب سے پہلے تو میں سبھی قابل احترام وزرائے اعلیٰ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے وقت بھی نکالا اور بہت سنجیدگی کے ساتھ اپنی باتیں رکھی ہیں۔ لیکن میری آپ سے گزارش ہے کہ اب تک جو کچھ بھی بات چیت ہوئی ہے، اس میں سبھی ریاست شامل ہیں،افسر کی سطح پر شامل ہیں، دنیا کے تجربات کا بھی شیئر ہے، لیکن پھر بھی وزرائے اعلیٰ کا اپنا ایک خاص تجربہ ہوتا ہے۔

عوامی زندگی میں کام کرنے والے لوگوں کی ایک خاص نقطہ نظر ہوتا ہے۔ کیوں کہ ان چیزوں کو اگر آپ کی تجاویز ملیں گی تو میری گزارش ہے کہ آپ تحریری طور پر اگر ہوسکے اتنی جلدی، کیونکہ آج بھی کچھ اچھے مسائل اٹھائے سب نے کہ یہ ہو، یہ ہو، یہ ہو، اس سے بھی زیادہ ہوں گے، یہ اگر مل جائیں گے تو ہمیں اپنی حکمت عملی وضع کرنے میں سہولت ہوگی۔ اور یہ کوئی کسی پر تھوپ نہیں سکتا ہے۔ حکومت ہند فیصلہ کرے کہ ہم یہ کریں گے، اور ریاستی حکومت۔۔۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔ ہم سب کو ملکر ہی اس چیز کو آگے بڑھانا پڑے گا اور اس لئے سب کے موضوعات کی بڑی اہمیت ہے۔

کورونا انفیکشن سے جڑے جو پرزنٹیشن ہوئے، ان میں بھی کافی جانکاریاں اُبھر کر آئی ہیں۔ آج میں نے شروعات میں کچھ وزرائے اعلیٰ سے بات کی تھی،جہاں صورتحال ذرا بگڑ رہی ہے، جہاں تک ویکسین کا سوال ہے ، ویکسین کی صورتحال اور ڈسٹری بیوشن کو لیکر بھی جو کچھ بھی بات چیت ہوئی ہے ایک طرح سے میڈیا میں جو چلتا ہے وہ الگ چیز ہوتی ہے۔ ہمیں تو ان چیزوں کو مصدقہ طریقے سے ہی آگے بڑھانا پڑیگا کیوں کہ ہم سسٹم کا حصہ ہیں۔ لیکن پھر بھی کافی تصویر صاف ہوئی ہے۔

ایک وقت تھا جب ہم سبھی کے سامنے چیلنج ایک انجام طاقت سے لڑنے کا تھا۔ لیکن ملک کی مربوط اور مشترکہ کوششوں نے اس چیلنج سے مقابلہ کیا، نقصان کو کم سے کم رکھا۔

آج صحتیابی کی شرح اور  اموات کی شرح دونوں ہی معاملوں میں ہندوستان دنیا کے زیادہ تر ملکوں سے بہت سنبھلی ہوئی صورتحال میں ہے۔ ہم سبھی کے انتھک کوششوں سے ملک میں ٹیسٹنگ سے لیکر ٹریٹمنٹ کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک آج کام کررہا ہے۔ اس نیٹ ورک کی لگاتار توسیع بھی کی جارہی ہے۔

پی ایم کیئرس کے ذریعے آکسیجن اور وینٹی لیٹر دستیاب کرانے پر بھی خاص زور ہے۔ کوشش یہ ہے کہ ملک کے میڈیکل کالج اور ضلع اسپتالوں کو آکسیجن جنریشن کے معاملے میں خودکفیل بنایا جائے۔ اس لئے ابھی 160 سے زیادہ نئے آکسیجن پلانٹس کی تعمیر کا عمل پہلے ہی شروع کردیا گیا ہے۔ پی ایم کیئر فنڈس سے ملک کے الگ الگ اسپتالوں کو ہزاروں وینٹی لیٹرس ملنے بھی یقینی ہوئے ہیں۔ وینٹی لیٹرس کے لئے پی ایم کیئرس فنڈس سے 2 ہزار کروڑ روپئے پہلے ہی منظور کیے گئے ہیں۔

ساتھیو،

کورونا سے مقابلے کے گزشتہ 10-8 مہینے کے تجربات کے بعد ملک کے پاس وافر ڈیٹا ہے،کورونا کے مینجمنٹ کو لیکر ایک وسیع تجربہ ہے۔ آگے کی حکمت عملی بناتے وقت ہمیں گزشتہ کچھ مہینوں کے دوران ملک کے لوگوں نے، ہمارے سماج نے کیسے ری ایکٹ کیا ہے، مجھے لگتا ہے کہ اس کو بھی ہمیں سمجھنا ہوگا۔ دیکھئے،  کورونا کے دوران بھارت کے لوگوں کا رویہ بھی ایک طرح سے الگ الگ مرحلوں میں رہا ہے اور الگ الگ جگہ پر الگ الگ رہا ہے۔

جیسے ہم موٹا موٹا  دیکھیں تو پہلا مرحلہ تھا بڑا ڈر تھا، خوف تھا، کسی کو یہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوجائیگا اور پوری دنیا کا یہ حال تھا۔ ہر کوئی ڈرا ہوا تھا اور اسی حساب سے ہر کوئی ری ایکٹ کررہا تھا۔ ہم نے دیکھا شروعات میں خودکشی تک کے واقعات ہوئے تھے۔ پتا چلا کورونا ہوا تو خودکشی کرلی۔

اس کے بعد دھیرے دھیرے دوسرا مرحلہ آیا۔ دوسرے مرحلے میں لوگوں کے من میں خوف کے ساتھ ساتھ دوسروں کے لئے اندیشہ بھی جڑ گیا۔ ان کو لگنے لگا کہ اس کو کورونا ہوگا مطلب کوئی گمبھیر معاملہ ہے، دور بھاگو۔ ایک طرح سے گھر میں نفرت کا ماحول بن گیا۔ اور بیماری کی وجہ سے سماج سے کٹنے کا ڈر لوگوں کو لگنے لگا۔ اس وجہ سے کورونا کے بعد کئی لوگ انفیکشن کو چھپانے لگے۔ ان کو لگا یہ تو بتانا نہیں چاہئے، نہیں تو سماج سے میں کٹ جاؤں گا۔ اب اس میں سے بھی دھیرے دھیرے سمجھے لوگ، اس سے باہر آئے۔

اس کے بعد آیا تیسرا مرحلہ۔ تیسرے مرحلے میں لوگ کافی حد تک سنبھلنے لگے۔ اب انفیکشن کو تسلیم بھی کرنے لگے اور اعلان بھی کرنے لگے کہ مجھے یہ تکلیف ہے، میں آئیسولیشن کررہا ہوں، میں کوارنٹائن کررہاہوں، آپ بھی کریئے۔ یعنی ایک طرح سے لوگ بھی اپنے آپ لوگوں کو سمجھانے لگے۔

دیکھئے آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ لوگوں میں زیادہ سنجیدگی بھی آنے لگی، اور ہم نے دیکھا کہ لوگ الرٹ بھی ہونے لگے۔ اور اس تیسرے مرحلے کے بعد ہم چوتھے مرحلے میں پہنچ گئے ہیں۔ جب کورونا سے ری کوری کا ریٹ بڑھا ہے تو لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ وائرس نقصان نہیں کررہا ہے، یہ کمزور ہوگیا ہے۔ بہت سے لوگ یہ بھی سوچنے لگے ہیں کہ اگر بیمار ہو بھی گئے تو ٹھیک ہو ہی جائیں گے۔

اس وجہ سے لاپرواہی کا یہ اسٹیج بہت بڑا ہوگیا ہے۔ اور اس لئے میں نے اپنے تیوہاروں کی شروعات میں ہی بالخصوص قوم کے نام پیغام دیکر کے ، سب کو ہاتھ جوڑ کرکے التجا کی تھی کہ ڈھلائی مت برتیئے کیوں کہ کوئی ویکسین نہیں ہے، دوائی نہیں ہے ہمارے پاس، ایک ہی راستہ بچا ہے کہ ہم ہر ایک کو کیسے اپنے آپ بچائیں۔ اور ہماری جو غلطیاں ہوئیں وہی ایک خطرہ بن گیا، تھوڑی ڈھلائی آگئی۔

اس چوتھے مرحلے میں لوگوں کو کورونا کی گمبھیرتا کے تئیں ہمیں  پھر سے بیدار ہونا ہی ہوگا۔ ہم ایک دم سے ویکسین پر شفٹ ہوں، جس کو کام کرنا ہے کریں گے۔ ہمیں تو کورونا پر ہی فوکس کرنا ہے۔ ہمیں کسی بھی حالت میں ڈھلائی نہیں برتنے دینی ہے۔ ہاں، شروع میں کچھ بندھن اس لئے لگانے پڑے تاکہ انتظامات بھی کرنے تھے، لوگوں کو  تھوڑا اکٹھا بھی کرنا تھا۔ اب ہمارے پاس ٹیم تیار ہے، لوگ بھی تیار ہیں۔ تھوڑی صبر رکھیں گے تو چیزیں سنبھل سکتی ہیں۔ جو جو چیز ہم تیار کریں اس کو اسی طرح لاگو کریں اور ہمیں آگے اب کوئی بڑھے نہیں، اس کی فکر ضرور کرنی ہوگی، کوئی نئی گڑ بڑ نہ ہو۔

آفت کے گہرے سمندر سے نکل کر ہم کنارے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہم سبھی کے ساتھ وہ پرانی جو ایک شعرو شاعری چلتی ہے، ایسا نہ ہو جائے۔

ہماری کشتی بھی

وہاں ڈوبی جہاں پانی کم تھا۔

یہ صورتحال ہمیں نہیں آنے دینی ہے۔

ساتھیو،

آج ہم دنیا بھر میں دیکھ رہے ہیں کہ جن ملکوں میں کورونا کم ہورہا تھا، آپ کو پورا چارٹ بتایا کیسے تیزی سے انفیکشن پھیل رہا ہے۔ ہمارے یہاں بھی کچھ ریاستوں میں یہ رجحان قابل تشویش ہی ہے۔ اس لئے ہم سبھی کو، حکومت، انتظامیہ کو پہلے سے بھی زیادہ بیدار، زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ٹرانسمیشن کو کم کرنے کیلئے اپنی کوششوں کو تھوڑی اور رفتار دینی ہوگی۔ ٹیسٹنگ ہو، کنفرمیشن، کنٹیکٹ ٹریسنگ اور ڈیٹا سے جڑی کسی بھی طرح کی کمی کو ہمیں اولین ترجیح دیتے ہوئے اس کو ٹھیک کرنا ہوگا۔ پوزیٹیویٹی ریٹ کو پانچ فیصد کے دائرے میں لانا ہی ہوگا اور میں مانتا ہوں چھوٹی چھوٹی اکائیوں پر دھیان دینا ہوگا کہ یہ کیوں بڑھا، آدھا کیوں بڑھا، دو کیوں بڑھا۔ ہم ریاست کے اسکیل پر بات چیت کرنے کے بجائے جتنی لوکلائز چرچا کریں گے شاید ہم ایڈریس جلدی کرپائیں گے۔

دوسرا ہم سب نے تجربہ کیا ہے کہ آرٹیفیشیل ٹیسٹ کا تناسب بڑھنا چاہئے۔ جو گھروں میں آئیسولیٹیڈ مریض ہیں، ان کی مانیٹرنگ زیادہ بہتر طریقے سے کرنی ہوگی۔ آپ بھی جانتے ہیں کہ اگر وہاں تھوڑی بھی ڈھلائی ہوئی وہیں مریض بہت خطرناک صورت میں اسپتال آتا ہے پھر ہم بچا نہیں پاتے ہیں۔ جو گاؤں اور کمیونٹی کی سطح پر صحت مراکزإ ہیں، ان کو بھی ہمیں زیادہ آلات سے لیس کرنا ہوگا۔ گاؤں کے آس پاس بھی انفرانسٹرکچر ٹھیک رہے، آکسیجن کی سپلائی مناسب مقدار میں رہے، یہ ہمیں دیکھنا ہوگا۔

ہم لوگوں کا ہدف ہونا چاہئے کہ اموات کی شرح ایک فیصد سے بھی نیچے لائیں۔ اور وہ بھی میں نے جیسے کہا، چھوٹے چھوٹے علاقوں میں دیکھا جب ایک موت ہوئی، کیوں ہوئی، جتنا زیادہ فوکس کریں گے، تب حالات کو سنبھال پائیں گے۔ اور سب سے بڑی بات، بیداری مہموں میں کوئی کمی نہ آئے۔ کورونا سے بچاؤ کے لئے جو ضروری میسیجنگ ہے، اس کے لئے سماج کو جوڑے رکھنا ہوگا۔ جیسے کچھ وقت پہلے ہر تنظیم، ہربااثر شخص کو ہم نے جوڑا تھا، انہیں پھر سرگرم کرنا ہوگا۔

ساتھیو،

آپ اچھی طرح واقف ہیں کہ کورونا کی ویکسین کو لیکر بین الاقوامی سطح پر اور ملکی سطح پر کس طرح کی خبریں آرہی ہیں۔ آج دنیا میں بھی اور ملک میں بھی جیسا ابھی آپ کو پرزنٹیشن میں پورا ڈٹیل بتایا گیا ہے، قریب قریب آخری دور میں ویکسین کی ریسرچ پر کام پہنچا ہے۔ حکومت ہند ہر ڈیولپمنٹ پر باریکی سے نظر رکھے ہوئے ہے، ہم سب کے  رابطے میں بھی ہیں۔ اور ابھی یہ طے نہیں ہوا ہے کہ ویکسین کی ایک ڈوز ہوگی، دو ڈوز ہوں گی یا تین ڈوز ہوں گی۔ یہ بھی طے نہیں ہے کہ اس کی قیمت کتنی ہوگی، یہ کیسی ہوگی۔

یعنی ابھی بھی ان ساری چیزوں کے سوالوں کے جواب ہمارے پاس نہیں ہیں۔ کیوں کہ جو اس کے بنانے والے ہیں، دنیا میں جس طرح کے کارپوریٹ ورلڈ بھی ہیں ان کا بھی کمپٹیشن ہے۔ دنیا کے ملکوں کے بھی اپنے اپنے ڈپلومیٹک انٹریسٹ ہوتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او سے بھی ہمیں انتظار کرنا پڑتا ہے تو ہمیں ان چیزوں کو عالمی تناظر میں ہی آگے بڑھنا پڑیگا۔  ہم انڈین ڈیولپرس اور مینوفیکچررز کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں۔ اس کے علاوہ گلوبل ریگولیٹرس دیگر ملکوں کی گورنمنٹ ، کثیررخی ادارے اور ساتھ ہی بین الاقوامی کمپنیاں سبھی کے ساتھ جتنا رابطہ بڑھ سکے ، یعنی رئیل ٹائم کمیونیکیشن ہو، اس کے لئے پوری کوشش، ایک نظام بنا ہوا ہے۔

ساتھیو،

کورونا کے خلاف اپنی لڑائی میں ہم نے شروعات سے ہی ایک ایک شہری کی زندگی بچانے کو اولین ترجیح دی ہے۔ اب ویکسین آنے کے بعد بھی ہماری ترجیح یہی ہوگی کہ سبھی تک کورونا کی ویکسین پہنچے، اس میں تو کوئی تنازعہ ہو ہی نہیں سکتا ہے۔ لیکن کورونا کی ویکسین سے منسلک بھارت کا ابھیان، اپنے ہر شہری کے لئے ایک طرح سے قومی عہد کی طرح ہے۔

اتنا بڑا ٹیکہ کاری ابھیان سموتھ ہو، سسٹمیٹک ہو، اور سسٹینڈ ہو، یہ لمبا چلنے والا ہے، اس کے لئے ہم سبھی کو، ہر سرکار کو، ہر تنظیم کو اکٹھا ہوکر کوآرڈینیشن کے ساتھ  ایک ٹیم کے طور پر کام کرنا ہی پڑیگا۔

ساتھیو،

ویکسین کو لیکر بھارت کے پاس جیسا تجربہ ہے، وہ دنیا کے بڑے بڑے ملکوں کو نہیں ہے۔ ہمارے جتنی ضروری اسپیڈ ہے، اتنی ہی ضروری سیفٹی بھی ہے۔ بھارت جو بھی ویکسین اپنے شہریوں کو دیگا، وہ ہر سائنسی کسوٹی پر کھری ہوگی۔ جہاں تک ویکسین کی تقسیم کی بات ہے تو اس کی تیاری بھی آپ سبھی ریاستوں کے ساتھ ملکر کی جارہی ہے۔

ویکسین ترجیحی  طور پر کسے لگائی جائے گی، یہ ریاستوں کے ساتھ ملکر کے ایک موٹا موٹا خاکہ ابھی آپ کے سامنے رکھا ہے کہ بھئی اگر اس قسم سے ڈبلیو ایچ او نے جو کہاہے، ہم چلتے ہیں تو ا چھا ہے۔ لیکن پھر بھی یہ فیصلہ تو ہم سب ملکر ہی کریں گے، ہر ریاست کے سجھاؤ کی اہمیت اس میں بہت رہے گی کیوں کہ آخرکار ان کو اندازہ ہے کہ ان کے ریاست میں کیسے ہوگا، ہمیں کتنے اضافی کولڈ چین اسٹوریج کی ضرورت رہے گی۔

مجھے لگتا ہے کہ ریاستوں کو ابھی اس پر زور دیکر کے انتظامات کرنا شروع کردینا چاہئے۔ کہاں کہاں یہ ممکن ہوگا، اس کے پیرامیٹرس کیا ہوں گے۔ اس پریہاں سے اطلاعات تو ڈپارٹمنٹس کو چلی گئی ہے لیکن اس کو اب لاگو کرنے کے لئے ہمیں تیار رہنا ہوگا۔ اور ضرورت پڑی تو اضافی سپلائی بھی یقینی کی جائے گی۔ اور اس کا توسیعی پلان بہت جلد ہی ریاستی حکومتوں کے ساتھ ملکر طے کرلیا جائیگا۔ ہماری ریاستوں کی اور مرکز کی ٹیم  ساتھ لگاتار وہ بات چیت کررہے ہیں، کام چل رہا ہے۔

مرکزی حکومت نے ریاستوں سے کچھ وقت پہلے گزارش کی تھی کہ ریاستی سطح پر ایک اسٹیئرنگ کمیٹی اور ریاست اور ضلع سطح پر ٹاسک فورس کا اور میں تو چاہوں کہ بلاک سطح تک ہم جتنی جلدی انتظام کریں گے کسی نہ کسی ایک فرد کو کام دینا پڑیگا۔ ان کمیٹیوں کی ریگولرمیٹنگیں ہوں، ان کی ٹریننگ ہو، ان کی مانیٹرنگ ہو، اور جو آن لائن ٹریننگ ہوتی ہے، وہ بھی شروع ہو۔ ہمیں ہمارے روز مرہ کے کام کے ساتھ کورونا سے لڑتے لڑتے بھی اس ایک انتظام کو توسیع جلد کرنا پڑیگا۔ یہ میری گزارش ہے۔

جو کچھ سوال آپ نے کہے ہیں۔ کون سی ویکسین کتنی قیمت میں آئے گی، یہ بھی طے نہیں ہے۔ بھارتی ویکسین ابھی دو میدان میں آگے ہیں۔ لیکن باہر کے ساتھ ملکر کے ہمارے لوگ کام کررہے ہیں۔ دنیا میں جو ویکسین بن رہے ہیں وہ بھی مینوفیکچرنگ کے لئے بھارت کے لوگوں کے ساتھ ہی بات کررہے ہیں، کمپنیوں کے ساتھ۔ لیکن ان مسئلوں میں ہم جانتے ہیں کہ 20 سال سے مان لیجئے کوئی دوائی پاپولر ہی ہیں، 20 سال سے لاکھوں لوگ اس کا استعمال کررہے ہیں۔ لیکن کچھ لوگوں کو اس کا ری ایکشن آتا ہے، آج بھی آتا ہے، 20 سال کے بعد بھی آتا ہے، تو ایسا اس میں بھی ممکن ہے۔ فیصلہ سائنسی ترازو پر ہی تولا جانا چاہئے۔ فیصلہ اس کی جو اتھوریٹی ہے ان اتھوریٹیز کی سرٹیفائی انتظام سے ہی ہونا چاہئے۔

ہم لوگ سماجی زندگی کی فکر کرتے ہیں لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ ہم کوئی سائنسداں نہیں ہیں۔ ہم اس کی ایکسپرٹائز نہیں ہیں۔تو ہمیں دنیا میں سے جو انتظامات کے تحت جو چیزیں آتی ہیں آخرکار اسی کو قبول کرنا پڑیگا۔ اور اس کو قبول کرکے ہم آگے چلیں گے۔ لیکن میں آپ سے گزارش کروں گا کہ آپ کے دل میں جو اسکیم کو خاص کرکے ویکسین کے سلسلے میں، کس قسم سے آپ ڈیلیوری نیچے تک لے جائیں گے۔ آپ جتنی جلدی بہت ڈٹیل پلان کرکے لکھ کرکے بھیجیں گے تو فیصلہ کرنے میں سہولت ہوگی اور آپ  کے مشوروں کی طاقت اس میں بہت ہے۔ ریاستوں کا تجربہ بہت اہمیت رکھتا ہے کیوں کہ وہیں سے یہ چیزیں آگے بڑھنے والی ہیں اور اس لئے میں چاہوں گا کہ آپ کا بہت ہی ایک طرح سے سرگرم شراکت داری اس میں بنے، یہی میری امید ہے۔

لیکن میں نے پہلے ہی کہا ویکسین اپنی جگہ پر ہے، وہ کام ہونا ہے، کریں گے۔ لیکن کورونا کی لڑائی ذرا بھی ڈھیلی نہیں پڑنی چاہئے، تھوڑی سی بھی ڈھلائی نہیں آنی چاہئے۔ یہی میری آپ سب سے گزارش ہے۔

آج تملناڈو اور پڈوچیری کے وزیر اعلیٰ سے بات کرنے کا مجھے موقع ملا۔ آندھرا سے میں فون نہیں کرپایا تھا صبح۔ ایک سائیکلون ہمارے مشرقی ساحل پر ایکٹو ہوا ہے۔ وہ کل شاید تملناڈو، پڈوچیری اور آندھراپردیش کا کچھ حصہ، وہاں پر آگے بڑھ رہا ہے۔ ساری بھارت سرکار کی ٹیمیں بہت سرگرم ہیں، سب لوگ گئے ہیں۔

میں نے آج دو وزرائے اعلیٰ سے بات کی تھی، آندھرا کے وزیراعلیٰ سے ابھی اس کے بعد بات کروں گا۔ لیکن سب کے لئے پوری طرح بھارت سرکار اور ریاستی حکومتیں مل کر کے اور پہلا کام خالی کروانا، لوگوں کو بچانا اس پر ہمارا زور رہے۔

پھر ایک بار میں آپ سب کا بہت شکر گزار ہوں، آپ سب نے وقت نکالا، لیکن میں گزارش کروں گا کہ آپ جلدی سے مجھے کچھ نہ کچھ جانکاریاں بھیجئے۔

شکریہ۔

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Centre launches Bhavya scheme to set up 100 industrial parks across country

Media Coverage

Centre launches Bhavya scheme to set up 100 industrial parks across country
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Ancient Wisdom, Modern Scale: India’s AYUSH Sector Reshaping Public Health
May 24, 2026

On June 21, 2015, Prime Minister Narendra Modi led nearly 36,000 people in a mass yoga demonstration at Kartavyapath, setting two Guinness World Records on the very first International Day of Yoga.
It was a moment of symbolism, but it was equally a declaration of policy. Over the next decade, under PM Modi, that declaration was backed with budgets, institutions, and a level of personal political commitment rare in public health governance.
AYUSH (Ayurveda, Yoga and Naturopathy, Unani, Siddha, and Homoeopathy) was, before 2014, a departmental afterthought. Today, it is a Cabinet-level Ministry, a foreign policy instrument, a Rs. 4,408 crore national budget line, and a sector projected to grow from US$43.3 billion to US$200 billion by 2030. This transformation is structural, measurable, and citizen-facing.

Yoga: From Cultural Heritage to Global Health Movement

No single AYUSH achievement better illustrates the Modi government’s capacity to move from vision to scale than yoga. In September 2014, PM Modi proposed at the UN General Assembly that June 21 be declared International Yoga Day (IDY).
Within 90 days, 193 member states unanimously endorsed the resolution, being the fastest adoption of any UNGA resolution of its kind. Participation has grown from 9.59 crore people in 2018 to 24.53 crore worldwide in 2024, breaking Guinness World Records once again.
The clinical case for yoga is equally compelling. A 2025 systematic review and meta-analysis of 30 randomised controlled trials in PLOS ONE found yoga reduced systolic blood pressure by a mean of nearly 8 mmHg, comparable to low-dose antihypertensive medication.
Another WHO registry analysis of 2,919 yoga clinical trials confirmed that the majority target India’s most pressing non-communicable disease burden: diabetes, hypertension, obesity, anxiety, and depression.
For IDY 2025, synchronised sessions at over one lakh locations under the ‘Yoga Sangama’ programme are planned, alongside 1,000 new Yoga Parks for long-term community wellness infrastructure, ensuring yoga’s public health dividend reaches the neighbourhood, not just the headlines.

The Budget Behind the Vision

Numbers, placed in sequence, reveal intent. The Ministry of AYUSH recorded actual expenditure of Rs. 1,069 crore in 2013-14. By 2026-27, that figure stands at Rs. 4,408 crore, a more than three-fold increase in twelve years. In 2024-25, the National Ayush Mission directed Rs. 1,200 crore toward state-level infrastructure and healthcare integration.
Institutional investment means little without ground-level reach, and here the numbers are equally striking. Undergraduate Ayurveda colleges grew from 261 in 2013-14 to 497 by 2024-25, with seats expanding from 13,585 to over 40,000. As of December 2025, 12,500 AYUSH Health and Wellness Centres are operational nationwide, embedded within the 1.84 lakh Ayushman Arogya Mandirs that reach aspirational districts and tribal areas.
At the Maha Kumbh in Prayagraj, over 9 lakh pilgrims accessed AYUSH services through 20 OPDs, 90-plus doctors, and 150 healthcare workers, making a mass public health delivery that would have been inconceivable a decade ago.
Complementing this, the ‘Desh Ka Prakriti Parikshan Abhiyaan’ campaign recorded over 1.29 crore Prakriti (Ayurvedic body-type) assessments, exceeded its one crore target, and earned five Guinness World Records, translating personalised preventive care into a national conversation.

The Economic Case

Beyond national achievements, the past two years have cemented India’s position as the world’s convener, not merely its practitioner, of traditional medicine.
India hosted the first WHO Traditional Medicine Global Summit in Gandhinagar in August 2023, producing the Gujarat Declaration. The Second Summit in December 2025 brought health ministers and scientists from over 100 countries and produced the Delhi Declaration, a shared roadmap through 2034.
Economically, AYUSH and herbal product exports rose to Rs. 5,907 crore in FY25, with export volumes growing 21% year-on-year. The sector’s combined manufacturing and services value now exceeds US$50 billion.This economic boost is directly linked to credibility, results and validation of the AYUSH medicines.

Evidence That Holds Under Scrutiny

The COVID-19 pandemic was an unplanned stress test. Over eight lakh AYUSH doctors and hospitals were mobilised nationally. The Ayu-Raksha Kit, developed by the All India Institute of Ayurveda and distributed to the Delhi Police, showed a 55.6% lower risk of COVID-19 infection compared with general population controls.
The Ayush Sanjeevani app captured data from 1.35 crore individuals, with 85% reporting utilisation of AYUSH preventive measures.
That credibility is now codified globally. The WHO’s 2025 ICD-11 update introduced a dedicated module for Ayurveda, Siddha, and Unani, enabling dual coding alongside conventional medical conditions and systematic global reporting.
Additionally, the CCRAS operates over 30 research institutes and has published 522 peer-reviewed papers by 2024–25. The Pharmacopoeia Commission for Indian Medicine and Homoeopathy (PCIM&H) has completed 21 quality monographs since 2020, with 62 more in progress, building the export-ready standards the sector previously lacked.

 A Health System with a Mandate
To sum up, what the last decade has accomplished in AYUSH is not merely institutional, it is civilisational in ambition and democratic in reach.
Where once traditional medicine was an inherited practice left to run on goodwill, it is now a funded, researched, globally recognised pillar of India’s health architecture.
On that measure, the trajectory is clear, and the momentum, for the first time in modern India’s health history, is on the side of traditional medicine.