‘‘پریکشا پہ چرچا 2026’’ پروگرام میں طلباء کے ساتھ وزیر اعظم کی بات چیت کا متن

February 06th, 10:21 am

طالب علم: میں سانوی آچاریہ ، آپ ہی کی ریاست یعنی گجرات سےہوں ۔ میرا پہلا سوال یہ ہے کہ والدین بھی ہماری فکر کرتے ہیں ، اساتذہ بھی ہماری مدد کرتے ہیں ، لیکن اہم مسئلہ تب آتا ہے، جب اساتذہ ہمیں تدریس کا ایک الگ پیٹرن تجویز کرتے ہیں ۔ والدین ایک الگ انداز میں بات کرتے ہیں کہ اس طرز پر پڑھائی کرو اور طلباء میں تو ایک الگ ہی رجحان ہوتا ہے ، اس لیے اس وقت ہم الجھن میں پڑ جاتے ہیں کہ کون سا پیٹرن درست ہے ۔

وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے پریکشا پہ چرچا 2026 کے دوران طلباء سے بات چیت کی

February 06th, 10:00 am

گجرات سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے سوال کیا کہ اگرچہ والدین ان کی فکر کرتے ہیں اور اساتذہ ان کی مدد کرتے ہیں لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے ، جب اساتذہ مطالعے کا ایک طریقہ تجویز کرتے ہیں، والدین کسی اور طریقے پر زور دیتے ہیں اور طلباء کسی مختلف رجحان کی پیروی کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ اس الجھن میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ درست طریقہ کون سا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ یہ صورتِ حال پوری زندگی جاری رہتی ہے اور یہاں تک کہ وزیرِ اعظم کی حیثیت سے بھی لوگ انہیں مختلف مشورے دیتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جس طرح گھر میں بہن بھائیوں کے کھانے کے انداز مختلف ہوتے ہیں ، کوئی سبزی سے آغاز کرتا ہے، کوئی دال سے اور کوئی سب کچھ ملا کر کھاتا ہے ، اسی طرح ہر شخص کا اپنا طریقہ ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اصل خوشی اپنے ہی انداز پر عمل کرنے میں ہے۔ جناب مودی نے وضاحت کی کہ کچھ لوگ رات کے وقت پڑھنا پسند کرتے ہیں، جب کہ کچھ صبح سویرے اور ہر ایک کی اپنی رفتار اور طریقہ ہوتا ہے۔ انہوں نے وعدہ خلافی سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بعض طلباء اپنی ماؤں سے کہتے ہیں کہ وہ صبح پڑھیں گے لیکن پھر اس سے گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طلباء کو اپنے مطالعے کے طریقے پر اعتماد رکھنا چاہیے، مشوروں کو غور سے سننا چاہیے اور صرف ذاتی تجربے کی بنیاد پر ہی بہتری کے لیے طریقۂ کار کو بدلنا چاہیے، نہ کہ محض اس لیے کہ کسی نے ایسا کہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے پریکشا پہ چرچا کا آغاز کیا تو اس کا ایک ہی انداز تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ، انہوں نے اس میں بہتری کی، مختلف ریاستوں میں نشستیں منعقد کیں، فارمیٹ میں تبدیلی کی مگر بنیادی مقصد کو برقرار رکھا۔ طلباء نے محسوس کیا کہ وزیرِ اعظم کا رویہ نہایت دوستانہ تھا اور وہ آسانی سے ان کے ساتھ گھل مل گئے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہر ایک کو مختلف طریقوں کو سننا چاہیے، ہر ایک سے اچھی باتیں اخذ کرنی چاہئیں، اپنے طریقے پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے اور اسے بتدریج مضبوط بنانا چاہیے۔

پریکشا پہ چرچا 2025ءپروگرام میں طلبہ کے ساتھ وزیر اعظم کی بات چیت کا متن

February 10th, 11:30 am

خوشی: مجھے تو آج ایسا لگ رہا ہے، جیسے میں کوئی خواب دیکھ رہی ہوں۔

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے پریکشا پہ چرچا 2025 کے دوران طلبہ سے گفت و شنید کی

February 10th, 11:00 am

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج سندر نرسری، نئی دہلی میں پریکشا پہ چرچا (پی پی سی) کے آٹھویں ایڈیشن کے دوران طلبہ سے گفت و شنید کی۔ وزیر اعظم نے ملک بھر کے طلبہ کے ساتھ غیر رسمی گفت و شنید میں متعدد موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ انھوں نے تل سے بنی مٹھائیاں تقسیم کیں جو روایتی طور پر سردیوں میں جسم کو گرم رکھنے کے لیے پیش کی جاتی ہیں۔