narendramodi.in

بین الاقوامی ۔ عالمی اسٹیج پر

شری نریندر مودی کی شہرت ہندوستانی سرحدوں سے پرے بھی ہے! امریکہ سے لیکر آسٹریلیا تک، چین سے یورپ تک، آپ کو ہمیشہ ایسے لوگ مل جائیں گے جو وزیر اعلی مودی کی شخصیت اور کام کرنے کے ان کے انداز کے معترف ہیں۔ وائبرینٹ گجرات سمٹ کی کامیابی شری نریندر مودی کے بین الاقوامی مقام و مرتبے کو ظاہر کرتی ہے: اس سمٹ میں سو سے زیادہ ممالک نے حصہ لیا اور اس کے نتائج دنیا نے دیکھے۔ شرکاء گجرات کے لئے سرمایہ کاری اور معاشی ترقی لائے تھے۔ گجرات میں جو کچھ کام ہوا ہے، اس کی وجہ سے غیر ممالک میں مقیم گجراتی باشندوں کو بھی شری مودی پرکشش دکھائی دیتے ہیں۔ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ ہر پرواسی بھارتیہ دیوس کے موقع پر، آج بھی شری مودی ہی سب سے چہیتے مقرر ہوتے ہیں۔ وہ آج بھی بہت سارا سفر کرتے ہیں۔ انہوں نے آسٹریلیا، چین، جاپان، ماریشش، تھائی لینڈ اور یوگانڈا کا سفر کیا ہے۔

اکتوبر 2001 میں دفتر کا کام کاج سنبھالنے کے مہینے بھر کے اندر ہی، وزیر اعلی شری نریندر مودی اس وقت کے وزیر اعظم شری اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں روس جانے والے اس وفد کا حصہ تھے جس نے استراکان صوبے کے گورنر کے ساتھ ایک اہم معاہدے پر دستخط کئے۔

چونکہ وزیراعلی مودی نے روس کے مزید دورے کئے، اسلئے آئندہ برسوں میں گجرات اور روس کے مابین رشتے مسلسل بہتر ہوئے، یہاں تک کہ توانائی جیسے میدان میں بھی باہم تعاون کا اہم رشتہ استوار ہوا۔

شری مودی اسرائیل کے دورے پر جانے والے ایک اعلی سطحی ہندوستانی وفد میں ملک کی نمائندگی کرنے والے لیڈران میں شامل تھے۔ آج گجرات اسرائیل کے ساتھ ایک مضبوط شراکت ڈیولپ کرنے کی دہلیز پر ہے، خاص طور پر وسائل انسانی، زراعت، پانی، توانائی اور تحفظ کے میدانوں میں۔

جنوب مشرقی ایشیا اور ہندوستان کے مابین باہم رشتہ صدیوں پرانا ہے اور آج بھی یہ رشتہ بے حد مضبوط ہے۔ وزیر اعلی نریندر مودی نے وزیر اعلی بننے کے بعد کئی مرتبہ جنوب مشرقی ایشیا کا دورہ کیا۔ انہوں نے ہانگ کانگ، ملائیشیا، سنگاپور، تائیوان اور تھائی لینڈ کا دورہ کیا اور یہ ممالک بین الاقوامی سطح منعقد ہونے والے مختلف ثقافتی پروگراموں میں شرکت کرتے ہیں جن میں گجرات کا سالانہ بین الاقوامی پتنگ بازی میلہ بھی شامل ہے۔

وزیر اعلی شری نریندر مودی نے چین کے ساتھ قریبی معاشی رشتے استوار کرکے گجرات کے لئے مواقع کے نئے در کھولے۔ انہوں نے چین کا 3 سرکاری دورہ کیا۔ اس سلسلے کا آخری دورہ نومبر 2011 میں کیا گیا۔ اس دورے کے دوران، چین کی سرفہرست قیادت نے بیجنگ کے گریٹ ہال آف پیپل میں شری نریندر مودی کا خیر مقدم کیا۔ یہ استقبالیہ عام طور پر ریاستوں کے سربراہان کے لئے مخصوص ہوتا ہے۔ چین کے ان کے دوروں نے گجرات کے لئے زبردست سرمایہ کاری کو فروغ دیا۔ اس میں سیچوآن اور چینی کمپنی ہوائی کی مدد سے آر اینڈ ڈی سینٹر کے ساتھ کیا جانے والے ایک میمورنڈم آف انڈراسٹینڈنگ بھی شامل ہے۔

2011 میں چین کے دورے کے دوران شری نریندر مودی سرفہرست چینی لیڈر سے تبادلۂ خیال کرتے ہوئے

مستشرقین کے ساتھ اس کا تعلق کا اختتام یہیں نہیں ہوتا۔ وائبرینٹ گجرات سمٹ کے اپنے مسلسل تعاون کے ساتھ، جاپان گجرات کا ایک ممتاز معاشی پارٹنر ہے۔ دہلی ممبئی صنعتی کاریڈور میں، جو گجرات کی معاشی زمین میں انقلاب برپا کر دے گا، جاپان کی مدد نے بھی جاپان اور گجرات کے مابین باہم رشتوں کو مضبوطی عطا کی ہے۔ جاپان کے ساتھ ساتھ، وزیر اعلی مودی کے جنوبی کوریا کے دورے بھی معاشی اور ثقافتی تبادلے کے سلسے میں ثمرآور ثابت ہوئے ہیں اور اس نے گجرات کی مجموعی ترقی میں معاونت کی ہے۔

گجراتیوں نے مشرقی افریقہ کی سیاسی معیشت میں اہم تعاون دیا ہے اور شری نریندر مودی کے لئے یہ فطری عمل تھا کہ وہ گجرات اور ان مشرقی افریقی ممالک کے ساتھ قریبی رشتے استوار کرتے جہاں آج بھی بڑی تعداد میں گجراتی آباد ہیں۔ انہوں نے کینیا اور یوگانڈا کا انتہائی کامیاب دورہ کیا جہاں ان کا پرجوش خیر مقدم کیا گیا۔ کینیا اور یوگانڈا کی حکومتیں وزیر اعلی شری نریندر مودی کی معیت میں گجرات کی ترقی سے بے حد متاثر ہیں۔

مختلف مواقع پر، شری مودی کے بین الاقوامی دوروں نے ہندوستانیوں کے چہروں پر بلا کی خوشی اور مسکراہٹ بکھیری ہے۔ 50 برس سے زیادہ گزرنے کے بعد انہوں نے ذاتی طور پر جنیوا کا سفر کیا اور سویٹزر لینڈ سے آنجہانی مجاہد آزادی شری شیام جی کرشنا ورما کی راکھ ملک لے آئے۔

جنیوا سے شیام جی کرشنا ورما کی راکھ واپس لاتے ہوئے

گزشتہ برس، چینی جیلوں میں قید ہندوستانی ہیرا بیوپاریوں کے مقدمات میں تیزی لانے کی شری مودی کی اپیل کے بعد نہ صرف یہ کہ ان مقدمات میں تیزی آئی بلکہ کچھ ہیرا بیوپاری وطن بھی لوٹے۔ ایسے وقت میں بھی، جب شری نریندر مودی عالمی اسٹیج پر بین الاقوامی لیڈران کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں، شری نریندر مودی کے دل میں 'پہلے ہندوستان' ہی ہے۔

شری نریندر مودی جنوبی ایشیا میں بھی اتنے ہی مقبول ہیں۔ گزشتہ برس کے اواخر میں، کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے وزیر اعلی مودی کو فون کیا اور انہیں گجرات ڈیولپمینٹ پر چیمبر سے خطاب کرنے کی درخواست کی۔ شری مودی کو اُس کے سی سی آئی بلڈنگ کی نقل بھی پیش کی گئی جس کا سنگ بنیاد 1934 میں کسی اور نے نہیں بلکہ گاندھی جی نے رکھا تھا۔ اس سال کے اوائل میں، سری لنکا کے سابق وزیر اعظم اور سری لنکا کی یونائٹیڈ نیشنل پارٹی کے لیڈر شری رانیل وکرما سنگھے نے گجرات کی ترقی کے بارے میں گفتگو کرنے کے لئے شری مودی کو سری لنکا مدعو کیا۔

شری نریندر مودی کے کام کی تعریف اٹلانٹک کی جانب سے بھی کی گئی۔ ستمبر 2011 میں، امریکی کانگریشنل ریسرچ سروس کی ایک رپورٹ میں شری مودی کو 'کنگ آف گوورننس' کے لقب سے پکارا گیا۔ انہوں نے مزید لکھا کہ وزیر اعلی مودی کی معیت میں گجرات نے ہندوستان کو ہندوستانی معاشی ترقی کا ایک اہم جز بنانے کی سمت موثر گوورننس اور متاثرکن ڈیولپمینٹ کی کی بہترین مثال پیش کی ہے۔ ''معاشی عمل میں ہمواری پیدا کرنے، لال فیتہ شاہی کو ہٹانے اور بدعنوانی کو ختم کرنے'' کے لئے شری مودی کی تعریف کی ہے۔

26 مارچ، 2012 کے اپنے شمارے میں، دنیا کی اہم ترین سرفہرست نیوز میگزین 'ٹائم' نے شری نریندر مودی کو اپنے سر ورق پر 'مودی یعنی تجارت' کے عنوان کے تحت جگہ دی۔ ٹائم کے سر ورق پر اب تک جن ہندوستانیوں کو جگہ ملی ہے ان میں شامل ہیں مہاتما گاندھی، سردار پٹیل، لال بہادر شاستری اور اچاریہ ونوبا بھاوے۔ ٹائم نے گجرات کی ترقی کی تعریف کرتے ہوئے شری مودی کے بارے میں لکھا کہ وہ ایک ایسے ''اٹل، سنجیدہ لیڈر جو قوم کو ترقی کی اس راہ پر لے جائے گا جو بالآخر چین کی ترقی کے ہم پلّہ ہوگی۔''

شری نریندر مودی ٹائم کے سرورق پر (Shri Narendra Modi on the cover of TIME)

امریکہ کے صف اول کے تھنک ٹینک بروکنگس انسٹی ٹیوٹ نے گجرات کی ترقیاتی دہائی کی تعریف کی۔ اس کے منیجنگ ڈائریکٹر ولیم اینتھولس نے لکھا کہ شری مودی ایک ایسے ''باصلاحیت اور اثردار سیاسی لیڈر ہیں'' جو ''وہی کرتا ہے جو کہتا ہے''۔ انہوں نے مزید گجرات کی ایک ایسی ریاست کے طور پر شناخت کی جو ''چین کے بیشتر حصوں سمیت، روئے زمین پر سب سے زیادہ تیز رفتار ترقی کا گواہ ہے۔''

'مودی نے گجرات کی ترقی کو فاسٹ ٹریک پر ڈال دیا' عنوان کے تحت صف اول کے بزنس نیوز پیپر 'فائنانشیل ٹائمز' نے گجرات میں ترقی کی رفتار کی تعریف کی۔ ایف ٹی نے گجرات کو ''سرمایہ کاروں کے لئے ہندوستان کی سب سے دوستانہ ریاست'' قرار دیا ''جہاں ترقی کی سالانہ شرح دہائی کے ہندسے سے زیادہ ہے''، اخبار مزید لکھتا ہے کہ گجرات کی پُر امن دہائی کے دوران گجرات معاشرے کے تمام طبقات نے، خاص طور پر نوجوانوں کو ایک مرتعش کل کا خواب دیکھنے کے لائق بنایا!

20 مئی، 2012 کی صبح، 'گجرات ڈے' کے جشن کے موقع پر شری نریندر مودی نے امریکہ کے 12 شہروں میں پھیلے غیر مقیم ہندوستانیوں کی زبردست بھیڑ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کیا۔ اپنی جامع تقریر میں، شری مودی نے گجرات میں کئے جانے والے مختلف ترقیاتی اقدامات کی فہرست گنوائی اور بتایا کہ کس طرح گجرات میں معیشت کے تمام تینوں سیکٹروں میں ترقی ہوئی ہے۔ غیر مقیم ہندوستانیوں نے اس تقریر کو پسند کیا اور اس تقریر کو دنیا بھر کے لاکھوں لوگوں نے بذریعہ سیٹیلائٹ، ٹیلی ویزن اور انٹرنیٹ سنا۔

امریکی ممالک بھی گجرات کی کامیابی سے اسی قدر متاثر ہیں۔ جولائی 2012 میں، شری مودی نے ایک اعلی سطحی وفد سے ملاقات کی جس میں 7 لاطینی امریکی اور برازیل، میکسیکو، پیرو اور ڈومنک جمہویہ سمیت کیریبیائی ممالک کے 7 سفارت کار شامل تھے۔ نہ صرف یہ کہ اس وفد نے گجرات کی ترقی کو سراہا بلکہ گجرات اور ان کے متعلقہ ممالک کے مابین باہم رشتے استوار کرنے کی بھی بات کی۔ شری مودی نے گجرات میں لکڑی، ٹمبر اور ماربل کے لئے تجارتی مراکز اور ایس ای زیڈ قائم کرنے کا تصور پیش کیا۔

غیر ملکی وفود کے ساتھ ہونے والے یہ تبادلۂ خیال اور تحسین آمیز کلمات شری نریندر مودی کی ہندوستان اور بیرون ہندوستان شہرت کی مثالیں ہیں۔ شری نریندر مودی نے گجرات کو جس طرح 'ہندوستان کا ترقیاتی انجن' کے طور پر تبدیل کیا ہے، تجارتی لوگوں سے لیکر عام آدمی اور عالمی لیڈران تک، ہر کوئی شری نریندر مودی کے اس تصور کا معترف ہے اور ان کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے۔

ای۔ بکس

گیلریاں

Copyright 2014 Narendramodi.in All Rights Reserved © | Disclaimer | Privacy Policy | Terms of Service