narendramodi.in

سوانح حیات

ایک صاحب نظر قائد جو کروڑوں دلوں میں خواب بُنتا ہے اور انہیں پورا کرنے میں مدد دیتا ہے، ایک وزیر اعلی کی حیثیت سے شری نریندر مودی گجرات کی نہ روکی جا سکنے والی کامیابی کی حکایاتِ مسلسل کے معمار ہیں۔

وزیر اعلی : عام آدمی

ستمبر، 1950 میں، شمالی گجرات کے ضلع مہسانہ کے ایک چھوٹے سے قصبے وڈناگر میں پیدا ہونے والے شری نریندر مودی کی پرورش و پرداخت ایک ایسی تہذیب کے زیر اثر ہوئی جس نے ان کی شخصیت میں فراخدلی، رحم دلی اور سماجی خدمت کا جذبہ پیدا کیا۔ چھٹی دہائی کے وسط میں ہونے والی ہند۔پاک جنگ کے دوران، ایک نوجوان کی حیثیت سے بھی، انہوں نے ریلوے اسٹیشنوں کے ٹرانزٹ میں فوجیوں کے لئے رضاکارانہ خدمات انجام دیں۔ 1967 میں، انہوں نے گجرات کے سیلاب متاثرہ لوگوں کی خدمت کی۔ بہترین انتظامی صلاحیت کے حامل اور انسانی نفسیات پر زبردست دسترس رکھنے والے شری مودی نے اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) میں خدمات انجام دیں اور گجرات میں ہونے والی مختلف سماجی و سیاسی تحریکوں میں اہم کردار ادا کیا۔

بچپن سے ہی انہیں کئی نامساعد حالات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن انہوں نے خالصتاً اپنے کردار اور ہمت کی بناء پر ان چیلینجوں کو مواقع میں تبدیل کردیا۔ جس وقت انہوں نے اعلی تعلیم کے لئے کالج اور یونیورسٹی میں داخلہ لیا، خاص طور پر اس وقت، ان کا راستہ بے انتہا مشکل اور دشوار گزار تھا۔ لیکن زندگی کی جنگ میں، وہ ہمیشہ ایک جنگجو کی مانند، ایک سچے سپاہی کی مانند ڈٹے رہے۔ انہوں نے کسی بھی سمت اپنا قدم اٹھانے کے بعد، اسے کبھی پیچھے نہیں لیا۔ وہ کبھی پسپا نہیں ہوئے اور نہ ہی ہار مانی۔ یہ ان کا پابند عہد تھا کہ انہوں نے پالیٹیکل سائنس میں پوسٹ گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ ہندوستان کی سماجی اور ثقافتی ترقی کے لئے انہوں نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)، جو ایک سماجی و ثقافتی ادارہ ہے، کے ساتھ کام کرنا شروع کیا اور بے لوث خدمت کے جذبے، سماجی ذمہ داری، پابند عہد اور قومیت کا درس لیا۔

آر ایس ایس کی خدمت کے دوران، شری نریندر مودی نے مختلف مواقع پر کئی اہم کردار نبھائے جن میں 1974 نو نرمان انسداد بدعنوانی تحریک اور 19۔ ماہ (جون 1975 سے جنوری 1977 تک) کی وہ طویل و دلخراش ایمرجینسی بھی شامل تھی جس میں ہندوستانی شہریوں کے بنیادی حقوق کا گلا گھونٹا گیا۔ اس پوری مدت کے دوران روپوش ہوکر اور اس وقت کی مرکزی حکومت کے فسطائی طریقوں کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے مودی نے جمہوریت کی روح کو زندہ رکھا۔

1987 میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کرکے انہوں نے اہم دھارے (مین اسٹریم) کی سیاست میں قدم رکھا۔ صرف ایک سال کے اندر ہی، ان کی گجرات اکائی کے جنرل سیکریٹری کی سطح پر ترقی ہو گئی۔ اس وقت تک انہوں نے ایک انتہائی قابل منتظم کے طور پر اپنا لوہا منوا لیا تھا۔ انہوں نے پارٹی کے کارکنان کو صحیح سمت میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لئے سرگرم کرنے جیسے چیلینج کو قبول کیا۔ پارٹی کو سیاسی اہمیت حاصل ہونے لگی اور اپریل 1990 میں پارٹی نے مرکز میں ایک الحاقی حکومت قائم کی۔ یہ شراکت چند ہی مہینوں میں ختم ہوگئی، لیکن 1995 میں بی جے پی نے اپنے بل بوتے پر دو تہائی اکثریت کے ساتھ گجرات میں حکومت قائم کی۔ اس کے بعد سے اب تک،  گجرات میں بی جے پی ہی حکومت کر رہی ہے۔

1988 اور 1995 کے درمیان، شری نریندر مودی کی شہرت حکمت عملی میں ماہر ایک ایسے ماسٹر کے طور پر ہوگئی جس نے بی جے پی کو گجرات ریاست کی برسراقتدار پارٹی بنانے کے لئے ضروری زمینی کام بخوبی انجام دئے۔ اس مدت کے دوران، شری مودی کو قومی سطح پر دو اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں، شری ایل کے اڈوانی کی سومناتھ سے ایودھیا رتھ یاترا (ایک انتہائی طویل مارچ) اور ایسا ہی ایک مارچ کنیا کماری (ہندوستان کی سب سے جنوبی ریاست) سے شمال میں کشمیر تک۔ 1998 میں نئی دہلی کے تخت تک بی جے پی کے عروج کے لئے انہی انتہائی کامیاب ایوینٹس کو وجہ بتایا جاتا ہے جس کی اہم ترین ذمہ داریاں شری مودی کے سر تھیں۔

1995 میں، انہیں پارٹی کا قومی سیکریٹری مقرر کیا گیا اور انہیں ہندوستان کی پانچ بڑی ریاستوں کی ذمہ داری دی گئی ۔۔۔ کسی نوجوان لیڈر کے لئے یہ بڑی سعادت کی بات تھی۔ 1998 میں، انہیں جنرل سیکریٹری (ادرہ) کے عہدے پر ترقی دے دی گئی، ہندوستان کی سب سے خوشحال اور ترقی یافتہ ریاستوں میں سے ایک گجرات کے وزیر اعلی کے طور پر منتخب کئے جانے سے پہلے وہ اس عہدے پر اکتوبر 2001  تک قائم رہے۔ قومی سطح پر کام کرتے ہوئے شری نریندر مودی کو ریاستی سطح کی کئی اکائیوں کے معاملات کی ذمہ داری دی گئی جن میں ریاست جموں اور کشمیر اور اتنے ہی حساس شمال مشرقی ریاستوں کی ذمہ داریاں بھی شامل تھیں۔ کئی ریاستوں میں پارٹی کی ازسرِ نو تعمیر کا سہرا بھی انہی کے سر جاتا ہے۔ قومی سطح پر کام کرتے ہوئے، شری نریندر مودی پارٹی کے لئے ایک اہم ترجمان بن کر ابھرے اور کئی اہم مواقع پر اہم کردار نبھایا۔

اس مدت کے دوران، انہوں نے بے شمار غیر ملکی دورے کئے اور کئی ممالک کے اہم لیڈران سے تبادلہ خیال کیا۔ ان تجربات نے نہ صرف یہ کہ یہ عالمی نظریے کے فروغ میں ان کی مدد کی بلکہ اس نے ان کے دل میں ہندوستان کی خدمت کرنے اور اسے بین الاقوامی طرز کے ممالک میں ملک کو سماجی و معاشی برتری کی جانب لے جانے کے جذبے میں شدت پیدا کی۔

اکتوبر 2001 میں، پارٹی نے انہیں گجرات میں حکومت کی قیادت کرنے کے لئے مدعو کیا۔ 7 اکتوبر 2001 کو جب شری مودی کی حکومت نے حلف لیا، تو گجرات کی معیشت کئی قدرتی آفات کے منفی اثرات کے زیر اثر تھی، جس میں جنوری 2001 کا زبردست زلزلہ بھی شامل تھا۔ اگرچہ، حکمت عملی میں ماہر اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف قسم کے تجربات کے حامل شری نریندر مودی نے ان مصیبتوں سے رو بہ رو نپٹنے کا فیصلہ کیا۔

وزیر اعلی بننے کے بعد ان کے پیش نظر جو سب سے بڑا چیلینج تھا، وہ تھا جنوری 2001 کے زبردست زلزلے کے متاثرین کی تعمیر نو اور بازآبادکاری۔ بھُج شہر ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا تھا اور ہزاروں لوگ بغیر کسی بنیادی سہولت کے عارضی گھروں میں قیام پذیر تھے۔ آج، بھُج اس بات کا شاہد ہے کہ کس طرح شری نریندر مودی نے ایک منفی حالت کو اجتماعی ترقی کے موقع میں تبدیل کر دیا۔

جس وقت تعمیرِ نو اور بازآبادکاری کا کام جاری تھا، اس وقت بھی شری نریند مودی کی توجہ بڑی تصویر پر مرکوز تھی۔ شری نریندر مودی نے ایک مربوط سماجی و معاشی منافع کے لئے سماجی سیکٹروں پر مناسب توجہ مرکوز کرکے اس عدم توازن کو درست کرنے کا فیصلہ کیا۔ ریاست کی مربوط ترقی کے لئے انہوں نے ایک پانچ شاخ دار حکمت عملی ۔۔۔ پنچ امرت یوجنا کا تصور پیش کیا۔

ان کی قیادت میں، گجرات تعلیم، زراعت، حفظان صحت اور کئی دیگر سیکٹروں میں زبردست تبدیلی کے مراحل سے گزرا۔ ریاست کے مستقبل کے لئے انہوں نے اپنا ایک واضح وژن ڈیولپ کیا، پالیسی کے تحت کام کرنے والے اصلاحی پروگرام شروع کئے، سرکاری انتظامیہ کے بنیادی ڈھانچے کی تشریقِ نو کی اور گجرات کو بڑی کامیابی و کامرانی کے ساتھ خوشحالی کی راہ پر لے آئے۔ اقتدار میں آنے کے 100 دنوں کے اندر ہی ان کی نیتوں اور صلاحیتوں کا اندازہ ہونے لگا۔ اس بات میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ ان صلاحیتوں نے انتظامی معاملات میں مہارت،واضح وژن اور صاف ستھرے کردار نےکے ساتھ مل کر شرابِ د و آتشہ کا کام کیا اور انہوں نے دسمبر 2002 کے عام انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کی اور مودی حکومت 182 نشستوں میں سے 128 نشستیں حاصل کرکے زبردست اکثریت کے ساتھ دوبارہ برسرِ اقتدار آگئی۔ یہ شاندار کامیابی 2007 میں بھی جاری رہی جب شری مودی کی قیادت میں بی جے پی نے ایک اور انتخاب میں ریکارڈ فتح درج کی۔

17 ستمبر 2012 کو شری نریندر مودی نے گجرات کی عوام کی خدمت کرتے ہوئے ریکارڈ 4000 دن مکمل کئے۔ انہیں مسلسل تین انتخابات میں گجرات کی عوام کی حمایت حاصل رہی۔ 2002 اور 2007 (117 نشستیں) انتخابات میں، شری مودی کی قیادت میں 2012 میں گجرات اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی کو ایک اور کامیابی نصیب ہوئی۔ بی جے پی کو 115 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی اور 26 دسمبر 2012 کو شری مودی نے گجرات کے وزیر اعلی کی حیثیت سے مسلسل چوتھی مرتبہ حلف لیا۔

آج، لوگوں نے ان سے جو امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں، انہیں اس سے زیادہ میسر ہوا۔ آج گجرات مختلف سیکٹروں میں قوم کی قیادت کر رہا ہے چاہے وہ ای۔گوورننس ہو، سرمایہ کاری، ایس ای زیڈ، سڑک کی تعمیر، مالی نظم و ضبط یا کچھ اور۔ گجرات کی ترقی کسی ایک سیکٹر کی ترقی پر مبنی نہیں بلکہ تمام تین سیکٹروں (زراعت، صنعت اور خدمات) کی ترقی پر مبنی ہے۔ گجرات کی اس زبردست اجتماعی ترقی کے پس پشت شری مودی کا ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس’ کا نعرہ اور عوام دوست، پرو۔ایکٹیو بہتر گوورننس (P2G2) پر توجہ شامل ہے جس کے تحت انہوں نے ریاست کی ترقی میں لوگوں کو گجرات کا فعال شریک کار بنایا ہے۔

تمام اقسام کی مخالفتوں کا سامنا کرتے ہوئے، انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ نرمدا بند کی اونچائی 121.9 میٹر تک پہنچے ۔۔۔ انہوں نے اس کی تعمیر کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف ایک دن کا 'اُپواس' بھی کیا۔ گجرات میں آبی وسائل کے گرڈ تعمیر کرنے والی ایک اسکیم ''سوجلام سوفلام'' پانی کا ذخیرہ کرنے اور اس کا مناسب و معقول استعمال کرنے کی سمت اٹھایا گیا ایک انتہائی منفرد اقدام تھا۔

چند انوکھے آئیڈیاز جیسے سوئل ہیلتھ کارڈ، رومنگ راشن کارڈ اور رومنگ اسکول کارڈ اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ انہیں ریاست کے سب سے عام لوگوں کی کس قدر فکر ہے۔

کرشی مہوتسو، چرنجیوی یوجنا، مترو وندنا، بیٹی بچاؤ مہم، جیوتی گرام یوجنا اور کرم یوگی ابھیان، ای۔ ممتا، ای۔پاور، اسکوپ، آئی کریئیٹ وغیرہ جیسی پیش قدمیاںشروعاتیں گجرات کی کثیر جہتی ترقی کے مقصد کے تحت کی گئیں۔ وژن، تصور اور شروع کئے گئے ان پروگراموں کی مقررہ وقت میں تکمیل شری نریندر مودی کو ایک سچے مدبر اور سیاست داں کے طور پر دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔ دوسرے سیاست دانوں کے مقابلے، جن کی نظر صرف آئندہ انتخابات تک ہی دیکھ سکتی ہےدراز ہے، شری مودی آئندہ نسل کی بہتری کے بارے میں سوچتے ہیں۔

وسیع پیمانے پر جدید ترین خیال کے حامل ایک جوان و متحرک عوامی لیڈر کے طور پر شہرت حاصل کرنے والے شری نریندر مودی گجرات کی عوام تک اپنا وژن بحسن و خوبی پہنچانے میں کامیاب رہے اور وہ گجرات کی 6 کروڑ سے زیادہ عوام کا یقین، بھروسہ اور امید قائم کرنے میں کامیاب رہے۔ لاکھوں لوگوں، یہاں تک کہ عام لوگوں کو بھی ان کے پہلے نام سے مخاطب کرنے کی ان کی غیر معمولی یادداشت نے انہیں عوام کا چہیتا بنا دیا۔ روحانی قائدین کے تئیں ان کے احترام کے رویے نے مختلف مذاہب کے مابین پل کا کام کیا۔ گجراتی عوام کے مختلف طبقے کے لوگ، جس میں مختلف آمدنی والے، مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے اور یہاں تک کہ مختلف سیاسی رجحان رکھنے والے بھی شری نریندر مودی کو ایک ایسے قابل اور صاحب نظر قائد کے طور پر تسلیم کرتے ہیں جو بڑی شفافیت اور قابل یقین طریقے سے ان کا معیار زندگی بلند کر رہا ہے۔ ایک باصلاحیت مقرر اور ہوشیار صلاح کارشری مودی کو دیہاتوں اور شہری لوگوں کی یکساں محبت حاصل ہے۔ ان کے ماننے والوں میں ہر عقیدے، ہر مذہب اور سماج کے ہر معاشی طبقے کے لوگ شامل ہیں۔

انہی کی قیادت میں گجرات دنیا بھر سے کئی ایوارڈس اور اعزازات حاصل ہوئے، جن میں تباہی کم کرنے کے لئے اقوام متحدہ (یو این) کا ساساکاوا ایوارڈ، گوورننس میں جدید کاری کے لئے کامن ویلتھ ایسوسی ایشن فار پبلک اڈمنسٹریشن اینڈ منیجمینٹ (CAPAM) ایوارڈ، یونیسکو ایوارڈ، ای گوورننس کے لئے سی ایس آئی ایوارڈ وغیرہ شامل ہیں۔ یہ حقیقت کہ شری نریند مودی کو عوام نے مسلسل تین برسوں کے لئے نمبر ایک وزیر اعلی کا درجہ دیا، اپنے آپ میں ان کی کامیابیوں کی دلیل ہے۔

گجرات کو عالمی نقشے پر ڈالنے کا ان کا ماسٹر اسٹروک در حقیقت موجودہ وائبرینٹ گجرات مہم کا نتیجہ ہے جس نے گجرات کو صحیح معنوں میں 'ترجیحات کے اعتبار سے سرمایہ کاری کا سب سے پسندیدہ مرکز' میں تبدیل کر دیا۔ 2013 میں منعقدہ وائبرینٹ گجرات سمٹ میں دنیا بھر کے 120 سے زیادہ ممالک کے شرکاء نے شرکت کی جو اپنے آپ میں ایک بڑی کامیابی ہے۔

گزشتہ کئی برسوں سے گجرات کی ترقی کی شرحیں دہائی کے ہندوسوں میں ہیں۔ اس وقت جبکہ گجرات ترقی اور ڈیولپمینٹ کی اپنی ڈگر پر گامزن ہے، یہ مسافر بے تکان چلتا جا رہا ہے، وقت کی ریت پر اپنے قدموں کے نشان چھوڑتا، قدم بہ قدم، ایک سنگ میل سے دوسرے سنگ میل کو تبدیل کرتا۔

سیاست میں زمیں تا آسمان شری مودی کی ترقی ایک قائد کی حیثیت سے ان کی بلند قامتی کی ایک مسلسل داستان ہے۔ اگر کوئی شخص قیادت میں آئیڈیا اور آئیڈیلس تلاش کرنے کا متمنی ہے، تو یہ بتانے کے لئے شری مودی ایک کلاسیکل رول ماڈل ہیں کہ کس طرح توانائی، کردار، ہمت، عہد اور وژن کی طاقت کے زور پر ایک ہی بار میں ایک تخلیقی قیادت جنم لے سکتی ہے۔ عوامی زندگی میں ایسی مثالیں شاذ ہی دیکھنے کو ملتی ہیں کہ کوئی شخص خدمت کے جذبے سے اس قدر سرشار اور اپنے مقصد میں اس قدر مستحکم ہے، اور کسی شخص سے عوام کو اتنی ہی محبت ہے جتنی گہری وابستگی اس شخص کو عوام سے ہے۔ زیادہ وقت نہیں لگا اس شخص کو مقدر کا سکندر بننے میں۔

ای۔ بکس

گیلریاں



Copyright 2014 Narendramodi.in All Rights Reserved © | Disclaimer | Privacy Policy | Terms of Service